جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 528 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 528

خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے 528 قیامت صغری بر پا کر دی۔کچھ سوجتا نہ تھا کیا کریں۔کسی کو بتانے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔شدید کرب کی کیفیت تھی۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی دل کو دبارہا ہو۔خوشی تو غم کا پہاڑ بن گئی۔معلوم نہ تھا کہ کسی اور خوشی کی بھی بات ہورہی ہے۔خاکسار چونکہ جولائی 2005 ء تک عرصہ 9 سال امیر و مشنری انچارج قازقستان رہا ہے۔اس عاجز کو انتخاب خلافت کمیٹی کا ممبر ہونے کے ناطے مکرم و محترم عطاء المجیب راشد صاحب امام بیت الفضل لندن کا فون آتا رہا کہ جلد لندن پہنچ جائیں۔21-20-19 را پریل ایمبسی میں چھٹی تھی۔22 کو صبح ایمبسی پہنچا۔الہی تصرفات کے تحت کھڑے پاؤں ویز املا۔فوراً ٹکٹ خریدا۔براستہ ازبکستان انتخاب خلافت کمیٹی کے اجلاس شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے بیت المفضل لندن پہنچا۔ان دعاؤں کی گھڑیوں میں سوائے گریہ وزاری کے کچھ سوجتا نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے وہ خوشی حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے رنگ میں عطا کر دی۔اجلاس کی کارروائی کے دوران انتخاب ہو جانے تک یہی دعا کرتے رہے کہ یا الہی مبارک وجود عطا کر اور کسی بھی آزمائش سے محفوظ رکھ۔خاکسار حلفاً خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ گواہی دیتا ہے کہ ناموں کے پیش ہو جانے کے بعد جب ووٹ دینے کا موقعہ آیا اور مکرم ومحترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے مرزا مسرور احمد نام بولا ہی تھا تو سر نیچے تھا اور ہاتھ اوپر۔یوں لگا کہ کسی غیبی طاقت نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اوپر اٹھادیا۔یہ کیفیت چند لمے تھی۔تھوڑی ہی دیر بعد خلافت خامسہ کے قیام کا اعلان سنتے ہی ایک طرف غم سے آنسو دبائے نہیں جاتے تھے تو دوسری طرف خوشی سے آنسو تھمتے نہ تھے۔حضرت اقدس خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختصر خطاب لمبی دعا، طویل معانقہ اور ہاتھ پر بیعت ودعا کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کے جنازہ اور تدفین کے مراحل کے لئے دل ام