جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 441
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 441 ہے ) سے اندر داخل ہوتا ہے تو بیت المبارک کے صحن میں مجھے مولوی بشارت احمد بشیر صاحب ملے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی صحت کا کیا حال ہے تو بشارت بشیر صاحب رو پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور کا وصال ہو گیا ہے۔اناللہ وانالیہ راجعون اس کے بعد جب میں بیت المبارک کے جنوبی دروازہ ( جو دفتر حدیقہ المبشرین کے سامنے کھلتا ہے) کے پاس پہنچتا ہوں تو مکرم محمد الدین صاحب ناز نے مجھے بلایا ہے کہ ٹکٹ لے کر فوری طور پر بیت کے مسقف حصہ کے اندر چلے جاؤ تمہارا بھی ووٹ ہے۔جب میں بیت کے اندر داخل ہو کرستونوں اور محراب کے درمیانی مسقف حصہ میں پہنچا ہوں تولا رڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح منتخب ہو گئے ہیں۔اعلان کی سماعت کے بعد جب میری نظر محراب پر پڑی تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب پگڑی پہنے محراب میں کھڑے ہیں۔☆۔۔۔تاریخ تحریر 23 جون 1982ء) ۱۱۔مکرم محمد اکرم شاہد صاحب ایڈ منٹن کینیڈا میں اپنی کار میں بیٹھا درود شریف پڑھ رہا تھا اور خلافت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے اونگھ آئی اور دیکھا کہ میرا ہاتھ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے اور تجدید بیعت کر رہا ہوں۔( تاریخ تحریر 16 ستمبر 1982ء)