جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 379
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 379 درمیان جانے والی سڑک کے سنگم کے فٹ پاتھ کے کنارے پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد بیٹھے بڑی تیزی سے لو ہے اور شیشے کی پلیٹوں پر سیاہی یا کالے رنگ کے برش سے تیر کے نشان بنا رہے ہیں۔اور آپ مجھے کہتے ہیں کہ " کل ہی لوگ احمدیت میں شامل ہونے کے لئے جوق در جوق آئیں گے۔تو ان کو مختلف گروہوں میں بلڈنگ کی طرف بھیجوانے کے لئے سمتیں مقرر کروں گا۔جس کے لئے میں بہ یہ بورڈ تیار کر رہا ہوں" اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ میرے علاوہ واسع عمر حضرت خلیفہ اول کا پوتا بھی وہاں اس کام میں مدد کے لئے آیا ہوا ہے۔اور ہم دونوں کو آپ نے اپنے ساتھ کام کرانے کے لئے بلایا ہوا ہے۔آپ نے مجھے مزید کالا رنگ لانے کے لئے کہا ہے تو میں جلدی سے اس اونچی عمارت کے اندر بنی ہوئی ایک دکان پر جاتا ہوں۔تو دیکھتا ہوں کہ وہ حلوائی کی دکان ہے۔وہاں مٹھائیاں لگی ہوئی ہیں۔اور بہت بڑے کڑاہ میں دودھ پکایا جا رہا ہے۔میں ان سے رنگ والے کی دکان پوچھتا ہوں۔تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ رنگ بھی فروخت کرتے ہیں۔چنانچہ مجھے وہاں ایک حصے میں رنگوں کے ڈبے بھی نظر آتے ہیں۔چنانچہ میں ایک ڈبہ خرید کر لاتا ہوں اور کام میں آپ کے ساتھ شامل ہو جاتا ہوں۔( تعبیر نامے میں لکھا ہے۔کہ سیاہی سے مراد ہے۔کہ "سردار قبیلہ ہو۔بلند مرتبہ پائے۔قلمدان حکومت ہاتھ آئے اور تیر کا نشان سے مراد۔" دلی مراد بھر آئے") اس میں پُر لطف بات یہ ہے کہ میں 31 / مارچ 1982ء کو جرمنی پہنچا تو اسی رات خواب دیکھا کہ ایک بہت وسیع سڑک ہے اور بشیر احمد ابن محترم منشی محمد دین صاحب مرحوم اس کے درمیان نہایت ہی اچھی صحت میں نہایت ہی اچھا سوٹ پہنے کھڑا ہے۔ایک بڑی کار آ کر اس کے سامنے رکتی ہے اور اس میں سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب دو اور آدمیوں کی