جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 33
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے رو یا اپنی تقریر میں بیان فرمائی۔33 " چھوٹی مسجد کے اوپر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اُس میں بیٹھا ہوا ہوں اور میرے ساتھ ہی مولوی نورالدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک شخص (اس کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں دیوانہ وار ہم پر حملہ کرنے لگا میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو اور اس کو سیٹرھیوں سے نیچے اُتار دیا۔وہ بھاگتا ہوا چلا گیا اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔" و۔( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 675)۔ماہ اگست 1892ء میں نے رات کو جس قدر آن مکرم کے لئے دعا کی اور جس حالت میں پُر سوز دُعا کی اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے۔لَوَى عَلَيْهِ (أَوُ) لَا وَلِيَّ عَلَيْهِ اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا۔مکتوب بنام حضرت خلیفہ مسیح الا ول مورخہ 26 اگست 1892ء مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر 2 صفحہ 122) ( تذکرہ صفحہ 655 جدید ایڈیشن)۔" حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نے بھیرہ میں ایک عظیم الشان مکان بنوایا تھا۔۔۔۔۔ابھی پورے طور پر وہ مکان تیار نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔جاڑہ کا موسم تھا۔مولوی صاحب چلتی ہوئی ملاقات کو آئے تھے۔رات کو حضرت امام کو وحی ہوئی۔کہ مولوی صاحب کو ہجرت کرنی چاہئے۔چنانچہ صبح کو مولوی صاحب کو سنایا کہ ہجرت کرو اور وطن نہ جاؤ۔یہ صدیق کا فرزند کوئی