جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 339 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 339

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے۔مکرم محمد اشرف احمد صاحب آف کرونڈی ناظم انصار اللہ ضلع خیر پور 339 یہ واقعہ 1954ء یا 1955 ء کا ہے کہ میں نیا نیا احمدی ہوا تھا اور رانی پور کے مقام پر رہتا تھا۔یہی جون کا مہینہ تھا محرم کی دسویں رات کو میں چھت پر سویا ہوا تھا کہ اہل شیعہ کا ماتمی جلوس مکان کے نیچے چوک میں کھڑا ہو گیا اور دردناک مریے پڑھنے شروع کر دیئے اور ماتم کی مجلس زور وشور سے شروع ہوگئی۔میری آنکھ کھلی تو میں اس قدر درد سے مضطرب ہوا کہ اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ اشرف تو اپنے آپ کو بڑا عاشق رسول کہتا ہے دیکھ یہ لوگ جن کو عشق ہے اپنے آپ کو کس طرح بے دردی سے کوس رہے ہیں تیرا ان سے آگے مقام ہے؟ اٹھ اور اپنے خدا کے آستانہ پر گر کر دعا کر کہ اللہ تعالیٰ شیعہ کے درجات بلند فرمائے۔میں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا اور بڑے درد و الحاح سے دعا کی کہ میرے قادر خدا تو ہر قدرت کا مالک ہے میں تیرے آگے التجا کرتا ہوں کہ جس عظیم الشان انسان کو یہ چودہ سوسال سے درد ملے ہیں مجھے اس کا دیدار کرا دے جب میں نے دعا کرنی شروع کی تو غیر معمولی کیفیت میری ہوگئی جو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا جب میں نے سجدہ سے سر اٹھایا ابھی تھوڑا ہی اوپر ہوا تھا کہ میرا جسم ساکت ہو گیا میں پوری طرح اوپر نہ اٹھ سکا اور دیکھا کہ چاروں طرف ایک عجیب قسم کی روشنی پھیل گئی اور ایک نوجوان کی نورانی شکل میرے سامنے آگئی جو دور سے اس طرح آئی جس طرح گھوڑے پر سوار ہو اور مجھے کمر تک نظر آرہا تھا۔ٹھوڑی میں چاہ زقن اچھی طرح پر خدو خال سے عربی تھا یہ کیفیت تھی کہ میں کوئی بات نہیں کر سکتا تھا نہ اس نے کوئی بات کی۔تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوگئی اور میں نے بقیہ نماز ختم کی اور میرا جسم پوری طرح کانپ رہا تھا با وجود گرمی کے میں سردی محسوس کر رہا تھا لیکن ایک لذت آشنائی تھی جو ہر لمحہ بڑھ رہی تھی جب میں تصور میں یہ دیکھتا تو یوں محسوس کرتا کہ یہ میرے پاس ہی ہے۔میں اس تڑپ میں تھا کہ دیدار نصیب ہوا ایک منٹ میری نظروں سے یہ