جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 340
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 340 شکل مونہیں ہوئی۔میں اسی سال باوجود غربت کے جلسہ سالانہ پر چلا آیا۔ربوہ کچی بیرکوں میں قیام تھا ہمیں کھانا کھلانے والے نوجوانوں میں وہی شکل مجسم میرے چاروں طرف پھر رہی تھی اور ہدایات دے رہی تھی کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو میری وہی کیفیت ہوگئی اور بڑھ کر بات کرنے سے بھی ڈر رہا تھا۔میں نے دوسرے خدام نو جوانوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو مجھے بتلایا گیا یہ میاں طاہر احمد صاحب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کا فرزند۔دوسرے دن میں نے جرات کر کے سارا واقعہ عرض کر دیا تو کمال معصومیت سے فرمایا یہ آپ کی عقیدت ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا عقیدت کیسی۔جب میں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی تو وہی واقعہ میری نظروں کے سامنے آ گیا اور میں نے حسین الثانی سمجھ کر بیعت کی بموجب حضرت مسیح موعود علیہ السلام که صد حسین است درگیر میبانم یہ واقعہ اگر میں نے جھوٹ تحریر کیا ہے تو خدا کی مجھ پر لعنت ہو۔تاریخ تحریر 18 جون 1982ء) مکرم بشیر احمد صاحب جنرل سیکرٹری حلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی 1960-61ء کی ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں گولبازار کے ساتھ ریلوے کراسنگ کے قریب ایک عمارت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے میرے لئے ایک وسیع دعوت کا بندوبست فرمایا ہے۔میں حضور کے سامنے بیٹھا ہوں حضرت مرزا ناصر