جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 231 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 231

خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے " 231 یہ درست ہے کہ حضرت اماں جان ناصر احمد کو بچپن میں اکثر ی کہا کرتیں اور فرماتی تھیں کہ یہ میرا مبارک ہے۔بیٹی ہے جو مجھے بدلہ میں مبارک کے ملا ہے۔مبارک احمد کی وفات کے بعد کے الہامات بھی شاہد ہیں۔ایک بار میرے سامنے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان سے اور بڑے زور سے اور بہت یقین دلانے - والے الفاظ میں فرمایا تھا کہ " تم کو مبارک کا بدلہ بہت جلد ملے گا۔بیٹے کی صورت میں یا نافلہ کی صورت میں۔" مجھے مبارک احمد کی وفات کے تین روز بعد ہی خواب آیا کہ مبارک احمد تیز تیز قدموں سے آرہا ہے اور دونوں ہاتھوں پر ایک بچہ اُٹھائے ہوئے ہے۔اُس نے آکر میری گود میں وہ بچہ ڈال دیا اور وہ لڑکا ہے۔اور کہا کہ "لو آپا یہ میر ابدلہ ہے۔" ( یہ فقرہ بالکل وہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا ) میں نے جب یہ خواب صبح حضرت اقدس کو سنایا تو آپ بہت خوش ہوئے۔مجھے یاد ہے آپ کا چہرہ مبارک مسرت سے چمک رہا تھا اور فرمایا تھا کہ "بہت مبارک خواب ہے۔" آپ کی بشارتوں اور آپ کے کہنے کی وجہ تھی کہ ناصر سلمہ اللہ تعالیٰ کو اماں جان نے اپنا بیٹا بنالیا تھا۔اماں جان کے ہی ہاتھوں میں ان کی پرورش ہوئی۔شادی بیاہ بھی انہوں نے کیا۔اور کوٹھی بھی بنا کر دی (النصرة) تمام پاس رہنے والے جو زندہ ہوں گے اب بھی شاہد ہوں گے کہ حضرت اماں جان ناصر کو مبارک سمجھ کر اپنا بیٹا ظاہر کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں " یہ تو میرا مبارک ہے "عائشہ والدہ نذیر احمد جس کو حضرت اماں جان نے پرورش کیا اور آخر تک ان کی خدمت میں رہیں۔یہی ذکر ا کثر کیا کرتی ہے کہ اماں جان تو ناصر کو اپنا مبارک ہی کہا کرتی تھیں کہ یہ تو میرا مبارک مجھے ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کئی سال ہوئے میں بہت بیمار ہوئی تو میں نے ایک کاپی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض باتیں جو یا تھیں لکھی تھیں۔اُن میں یہ روایت ی اور اپنا خواب میں نے لکھا تھا وہ کا پی میرے پاس رکھی ہوئی ہے۔" الهام إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيى کے ساتھ ہی اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ