جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 177
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 177 ایک شخص سے دریافت کیا یہ کیا بات ہے۔وہ شخص کہنے لگا آپ کو معلوم نہیں قوم میں اختلاف ہو گیا تھا کہ جماعت میں سب سے زیادہ خوش نویس کون ہے۔چنانچہ مدعیان خوشنویسی نے اپنے اپنے قطعات لکھ کر مولوی نور الدین صاحب کو حکم قرار دیا اور قطعات پیش کئے۔چنانچہ مولوی صاحب نے سب سے اول نمبر حضرت صاحبزادہ محمود احمد کو قرار دیا ہے۔پھر وہ شخص مجھ کو ایک دیوار کے پاس لے گیا۔دیکھا کہ دیوار پر بہت جلی قلم کے بہت سے قطعے لگے ہوئے ہیں۔کسی میں بسم اللہ لکھی ہے۔کسی میں نَصْرٌ مِنَ اللہ لکھی ہے۔کسی میں کچھ عبارت ہے اور کسی میں کچھ عبارت ہے۔سب سے اوپر ایک چھوٹا قطعہ سنہری چو کٹھے میں لگا ہوا ہے اور خط طغرہ میں لکھا ہوا ہے اور اس میں پھولوں کا ہار پڑا ہوا ہے۔مگر بوجہ خط طغرہ ہونے اور دور ہونے کے پڑھا نہیں جاتا۔وہ شخص کہنے لگا کہ یہ وہ قطعہ ہے جس پر مولوی نورالدین صاحب نے حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب کو اوّل نمبر قرار دیا ہے۔پھر وہ شخص مجھ کو ایک دوسرے کمرے میں لے گیا۔وہاں ایک میز اور دو کرسیاں میز کے ارد گرد لگی ہوئی تھیں۔ایک پر مولوی نور الدین صاحب تشریف فرما تھے اور دوسری پر حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب تشریف رکھتے تھے۔ہر دو صاحبان کے گلے میں پھولوں کے ہار پڑے ہوئے تھے۔میری آنکھ کھل گئی اور مندرجہ ذیل امور اس خواب سے خادم پر روز روشن کی عیاں اور نمایاں ہو گئے۔ا۔۲۔۔مولوی محمد علی صاحب قوم میں کوئی جھگڑا ڈالیں گے۔وہ اس میں حق بجانب نہ ہوں گے۔صاحبزادہ محمود احمد صاحب جماعت احمدیہ میں خلیفہ ہونے کی درجہ اوّل صلاحیت رکھتے ہیں۔خدا کا عین منشا ہے کہ مولوی نور الدین صاحب کے بعد حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب خلیفہ ہوں۔اور حضور کے وقت میں جماعت احمد یہ بہت بڑی ترقی کرے گی۔