جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 178
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 178 چنانچہ میں نے اسی وقت دل میں اقرار کیا کہ اگر مولوی نور الدین صاحب کا انتقال ہو گیا اور مولوی محمد علی صاحب نے کوئی قوم میں جھگڑا ڈالا تو میں تو صاحبزادہ حضرت محمود احمد صاحب کو خلیفہ تسلیم کرلوں گا۔اگلے روز خلیفہ اول کا انتقال ہو گیا اور مولوی محمد علی صاحب کے ٹریکٹ بذریعہ ڈاک آگئے جو کورے فریب اور دجل پر مبنی تھے۔خاکسار نے تو فوراً صاحبزادہ حضرت محمود احمد صاحب کو خلیفہ برحق تسلیم کر لیا اور حضور اقدس کی خدمت میں بیعت کا عریضہ روانہ کر دیا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے خاکسار کو لاہوری فتنہ سے بچالیا۔ورنہ ممکن تھا کہ یہ خادم جماعت لاہور میں شامل ہو جاتا۔" ( تاریخ تحریر 20 اکتوبر 1939ء) بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ 353-351) ۴۳ مکرم جناب چوہدری غلام رسول صاحب چک 99 شمالی ضلع سرگودها " میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مندرجہ ذیل خواب اسی طرح دیکھا ہے۔ہم ابھی گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں ہی تھے اور ابھی حضرت خلیفتہ اسی اول زندہ تھے کہ میں نے خواب دیکھا کہ ( میں احمد یہ چوک قادیان میں کھڑا ہوں اور اردگرد کی دکانیں سناروں کی معلوم ہوتی ہیں اور دوکانوں میں چاندی کے بہت سے تیار شدہ زیورات پڑے ہیں اور کچھ تیار کئے جار ہے ہیں۔اور کچھ سونے کے زیور بھی ہیں۔ان میں ایک سنار ستمی رمضان ہے جو کہ ہمارا واقف ہے کیا دیکھتا ہوں۔کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایک جانب سے آنکلے ہیں۔(اس وقت