جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 125 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 125

" خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے حضرت ملک مولا بخش صاحب کی رؤیا 125 " میں نے حضرت خلیفہ اول کو خواب میں دیکھا کہ وہ ایک سبز گھاس کے میدان میں ایک باغ میں تکیہ لگائے بیٹھے ہیں اور بیمار سے معلوم ہوتے ہیں۔( آپ نے ) مجھے مخاطب کر کے ایک (ایسی) عجیب عبارت بولی جیسی۔۔۔۔میں نے نہ کبھی بولی ، ن لکھی، نہ سنی تھی۔فرمایا "اتا نے سانپ کو ، بڑھاپے نے جوانی کو مار ڈالا۔تم بھی ایک میں اپنے اختلافات کو مار ڈالو۔بیدار ہوا تو مجھے یقین تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیعت خلافت کر لو۔چنانچہ میں نے پہلے جلدی ہی ( بیعت کا ) خط لکھ دیا اور پھر بعد میں دستی بیعت بھی کی۔لاہور کے جلسہ (سالانہ ) کی تاریخ ابتداء ایک دن پہلے تھی۔اس لئے پہلے دن میں نے لاہور کا جلسہ دیکھا اور پھر قادیان چلا گیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے جو بوقت وفات حضرت خلیفہ اول ولایت میں تھے واپس آچکے تھے۔انہوں نے مجھے سٹیج پر بلا کر معانقہ کیا اور کہا کہ ) یہ کیا ہورہا ہے۔میں نے کہا (کہ) یہ تو آپ بڑے لوگ ہی جانیں۔چونکہ وہ ( بھی ) کشمیری تھے اور میں بھی کشمیری۔۔۔۔۔۔(اسے مد نظر رکھ کر ) انہوں نے کہا اچھا خیر ہے چاول رگڑ رگڑ کر ہی سفید نکلتے ہیں۔" اصحاب احمد از ملک صلاح الدین ایم اے جلد اول صفحہ 140-139 )