جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 124
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 124 طرف دومستورات ہیں۔اچانک ان چھتریوں کے ٹانکے ٹوٹ گئے اور کپڑا اکٹھا ہوگیا، مستورات آپ کے پاس سے جانے لگیں تو آپ نے کہا ٹھہرو میں ابھی ٹانکے لگا تا ہوں۔آپ ایک طرف سے کپڑا کھینچتے تو دوسری طرف اکٹھا ہو جاتا۔دوسری طرف کھینچتے تو پہلی طرف اکٹھا ہو جاتا۔یہ خواب آپ نے اکبرشاہ خان صاحب نجیب آبادی ( ٹیوٹر بورڈ نگ ) کو سنائی اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ اسیح الاول دو سائے تھے جو جاتے رہے۔اب ٹانکے یعنی خلافت سے وابستگی ہی فائدہ دے گی۔اس پر خان صاحب نے سوال کیا وہ عورتیں کون تھیں؟ گھر گئے وہاں آپ کی لڑکی اور ہمشیرہ ( بیوہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب) آئی ہوئی تھیں۔کہنے لگیں ہم تو بیعت کر آئی ہیں۔اگر آپ نہ کریں گے تو ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔پھر آپ نے اکبر شاہ خان صاحب کو سنایا کہ عورتوں والا حصہ بھی پورا ہو گیا۔جس کے متعلق آپ دریافت کرتے تھے انہوں نے کہا اب تو بات صاف ہوگئی۔اس طرح منشی صاحب نے بیعت سے قبل دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب کا معاملہ منشی صاحب سے قَلَّبُو لَكَ الْأُمُو رُوَضَرَبُو الكَ الأمْثَالَ کا ہے۔یعنی ہیرا پھیری کی باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح منشی صاحب نے بعض اور خواہیں بھی دیکھیں۔چنانچہ پانچ چھ دن کے بعد چوہدری غلام محمد صاحب، اکبر شاہ خان صاحب ہمنشی صاحب اور آپ کے بڑے بھائی غلام قادر صاحب نے صبح کے وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فيضھم کے چوبارہ میں، جہاں ان دنوں حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیٹھا کرتے تھے بیعت کر لی۔" اصحاب احمد از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے جلد اول صفحہ 191)