جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 94
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 94 دفعہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نور کے ستون کے طور پر زمین کے نیچے سے نکلا۔یعنی پاتال سے آیا اور اوپر آسمانوں کو پھاڑ کر نکل گیا۔اگر چہ مثال بُری ہے لیکن ہندوؤں میں یہ عقیدہ ہے کہ شوجی زمین کے نیچے سے آیا اور آسمانوں سے گزرتا ہوا اوپر چلا گیا۔یہ مثال اچھی نہیں مگر اس میں اسی قسم کا نظارہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاتال سے نکل کر افلاک سے بھی اوپر نکل گیا۔میں نے بھی دیکھا کہ ایک نور کا ستون پاتال سے آیا اور افلاک کو چیرتا ہوا چلا گیا۔میں کشف کی حالت میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کا نور ہے۔پھر اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا لیکن مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ اس کے رنگ میں ایسی مشابہت تھی کہ گویا وہ گوشت کا ہے۔اس میں ایک پیالہ تھا جس میں دودھ تھا جو مجھے دیا گیا اور میں نے اسے پیا اور پیالے کو منہ سے ہٹاتے ہی پہلا فقرہ جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ اب میری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی۔" (خطبہ جمعہ 04 / جنوری 1935 ء از خطبات جمعہ جلد 16 صفحہ 18-17) فوج کی کمان کر رہا ہوں: مکرم سید احمد علی شاہ صاحب فاضل مربی سلسلہ مقیم لائل پور ( فیصل آباد، جو بعد میں نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ کے عہدے پر تا وفات فائز رہے ) بیان کرتے ہیں۔میں جامعہ احمدیہ کی مبلغین کی کلاس میں پڑھا کرتا تھا اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہمیں تفسیر القرآن پڑھایا کرتے تھے۔حسب دستور 15 جولائی 1935ء کو بھی جب آپ سبق پڑھا رہے تھے تو ضمناً آپ نے ایک بات کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی مجھ سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن میں نے کہا کہ میاں آپ کے والد حضرت مسیح موعود کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں کیا آپ کو بھی خواہیں وغیرہ آتی ہیں؟ تو میاں صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب خوا ہیں تو بہت آتی ہیں لیکن ایک خواب تقریباً میں روز ہی دیکھتا ہوں اور جونہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صبح اٹھنے تک یہ نظارہ دیکھتا