جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 82 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 82

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فسبحان الذي اخزى الاعادي 88 82 در مشین اردو) ۱۳ حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب آف بمبئی کی شہادت 1902ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی جب پہلی شادی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کے ہاں قرار پائی تو حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب آف بمبئی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت مخلص خادم ہیں۔ایک مخملی ٹوپی پر سلمہ ستارہ سے الهام "مَظْهَرُ الْحَقَّ وَالْعَلَاءِ كَاَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ " کڑھوا کر حضور کی خدمت میں ارسال کی اور درخواست کی کہ شادی کے وقت یہ ٹوپی دولہا کو پہنائی جائے اسی طرح آپ نے ایک اوڑھنی دلہن کے لئے بھجوائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جب سیٹھ صاحب کی طرف سے یہ ہدیہ پہنچا۔تو آپ نے اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دست مبارک سے جناب سیٹھ صاحب کو ایک خط لکھا جس میں حضور نے شکریہ ادا کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دین اور دُنیا میں اس کا اجر بخشے۔اس واقعہ کا ذکر حضرت سیٹھ صاحب کی زبان سے شیخ اعجاز احمد صاحب سب حج دہلی نے اپنے قیام بمبئی کے دوران میں سنا اور انہوں نے اس روایت کا ذکر دہلی میں ایک تقریر کرتے ہوئے احباب جماعت کے سامنے کیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد سید غلام حسین صاحب لائیوسٹاک آفیسر ریاست بھوپال نے شیخ صاحب کو لکھا کہ وہ روایت جو آپ نے دہلی میں ایک موقعہ پر بیان کی تھی قلم بند کر کے بھجوادیں۔شیخ صاحب نے از راہ احتیاط حضرت سیٹھ صاحب کو خط لکھا۔اور درخواست کی کہ اس روایت کے متعلق اپنی شہادت لکھ کر ارسال فرما ئیں۔اس کے