جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 35
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کا بلند مقام تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نورد میں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے 35 سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تحریرات میں اپنے مخلص اور جاں نثار خدام میں سے سب سے بڑھ کر جس وجود کو تعریفی کلمات سے نوازا ہے وہ حضرت مولوی نورالدین خلیفتہ المسیح الاوّل ہیں جن کا ذکر آپ نے نہ صرف اپنی کتابوں میں فرمایا ہے بلکہ اپنے اشتہاروں، نجی خطوط اور تقاریر میں بھی آپ کے بلند مقام اور علومر تبت کا بڑی کثرت سے تذکرہ فرمایا ہے اس ضمن میں حضور کے چند اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔تصانیف میں ذکر : آپ اپنی کتاب " فتح اسلام " میں فرماتے ہیں۔"سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نو را خلاص کی طرح نور دین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔" (فتح اسلام از روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 35)