جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 189 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 189

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۵۳۔مکرم علی محمد صاحب بی اے بی ٹی کا خواب آپ لکھتے ہیں۔189 یہ خواب میں نے 1920ء کے قریب دیکھا تھا اگر چہ میں نے حضور کی بیعت پہلے دن ہی کر لی تھی۔اور حضور کو خلیفہ برحق سمجھتا رہا ہوں مگر اس خواب کے بعد تو مجھے حضور کی خلافت کے متعلق کبھی کسی قسم کا شبہ نہیں ہوا۔اور وہ خواب یہ ہے۔" میں نے دیکھا کہ میرے اپنے قصبہ مٹھو ضلع لدھیانہ کا نظارہ ہے ( میں اپنے خوابوں میں جب کبھی اپنے آبائی قصبے کو دیکھتا ہوں تو اس سے مراد قادیان ہی ہوتی ہے ) ایک راستے کے مشرقی جانب ایک بلند مقام پر کیا دیکھتا ہوں، کہ سرخ رنگ کا عمل کا فرش بچھا ہوا ہے ، اور جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرش ہی فرش دکھائی دیتا ہے۔مخمل سادہ نہیں بلکہ پھولدار مخمل ہے۔اور پھول ایسے ہیں جیسے مور کے پروں پر پھول بنے ہوئے ہوتے ہیں۔گویا نہایت خوبصورت سرخ مخمل کا فرش ہے۔اس پر ایک تخت بچھا ہوا ہے جو وہ بھی سرخ رنگ کا ہے۔اس تخت پر حضور جلوہ افروز ہیں اور حضور کا لباس بھی اسی سرخ پھول دار مخمل کا ہے۔میں اپنی اہلیہ مرحومہ ( والدہ عبد السلام اختر ) کو کہتا ہوں کہ دیکھو ہمارے بادشاہ ہیں اور میں کوئی اور بات بھی ان سے کہی جو ، اب مجھے اچھی طرح یاد نہیں جس کے جواب میں والدہ عبدالسلام اختر نے کہا، کہ اب ہم انہی کے خادم ہیں۔یہ نظارہ بہت ہی خوش کن تھا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔" (الفضل 19 ستمبر 1956ء)