جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 190 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 190

خلافت ثانیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۵۴ مکرم حاجی غلام احمد صاحب ایڈوکیٹ پاکپتن کا ایک خواب آپ لکھتے ہیں۔190 "خاکسار نے ستمبر 1951ء بمطابق ذوالحجہ 1370ھ میں حج بیت اللہ کیا تھا اور دوران حج بمقام منی بتاریخ 11 ذو الحجہ بمطابق 13 ستمبر 1951ء بوقت ضحی جبکہ میں بیٹھا ہوا اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا تھا۔پہلے میری زبان پر فقرہ حجک حج جاری ہوا۔ترجمہ : یعنی تیرا حج ، حج ہے۔پھر تھوڑے سے وقفہ کے بعد بیداری میں ربودگی اور غنودگی طاری ہوئی اور کشف دیکھا کہ ایک شخص جس کی داڑھی مہندی سے رنگی ہوئی اور کسی قدر سفید کھونٹی نکلی ہوئی تھی آیا اور اس نے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ ہمارا ایمان مصلح موعود کے سوائے اور کسی پر نہیں۔" میں نے اس کی تصدیق میں اپنا سر ہلایا۔تب مجھے محسوس ہوا کہ میرا جسمانی سر بھی ہل رہا ہے۔کشفی حالت دور ہونے پر معاً خارجی حالت میں بھی فی الواقعہ میرا جسمانی سر ہل رہا تھا۔میں نے اس کے جلد ہی بعد اپنے ساتھی حکیم امیر الدین از منٹگمری غیر احمدی کو یہ تمام ماجرا بتلادیا تھا،اوراسی روز خاکسار نے یہ تمام ماجرا آنحضور کی خدمت بابرکت میں بذریعہ ہوائی ڈاک تحریر کر کے ارسال کر دیا تھا، اور حج سے واپسی پر اپنے حلقہ احباب میں اس کا تذکرہ کرتارہا تھا۔حکیم امیر الدین صاحب مذکور نے اس وقت خود ہی کہا تھا کہ پھر تو قادیانی خلیفہ سچا ہوا۔میں نے جواب دیا تھا کہ ہاں سچا مصلح موعود ہے۔میں موکد بعذ اب اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، کہ مذکورہ بالا ماجرا اور کشف بالکل درست اور صحیح ہے۔افتراء کرنا اور جھوٹ بولنا لعنتیوں کا کام ہے۔لعنت اللہ علی الکاذبین