جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 188
خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 188 کے اندر ایک تالاب ہے جس کا پانی بظاہر بالکل صاف ہے اور اس کی تہ کی تمام چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، ان میں سے ایک لڑکے نے میرا بازو پکڑ کر مجھے تالاب میں دھکیل دیا۔جب میں اس میں گرا تو معلوم ہوا کہ تمام شہر کی گندی نالیاں اس میں گرتی ہیں اور تالاب میں اس قدر عفونت ہے کہ دم نکلتا ہے۔میں نے اس تالاب میں سے نکلنے کی از حد کوشش کی مگر باوجود کوشش کے نہ نکل سکا۔آخر کنارے پر مجھے ایک منڈیر دکھائی دی۔جس کے سہارے میں باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دیوار قریباً15 فٹ اونچی کھڑی ہے۔جو مجھ کو باہر نہیں جانے دیتی۔میں بصد مشکل اس دیوار پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور دیوار اسی قدر اونچی کھڑی ہے ، اور میرے راستہ میں حائل ہے۔بصد مشکل میں اس دیوار پر چڑھا تو سامنے ایک دروازہ دکھائی دیا، اور ارادہ کیا کہ باہر ہو جاؤں تو کیا دیکھتا ہوں۔کہ اس دیوار کی بائیں جانب ایک کوٹھڑی ہے اور اس کے اندر خلیفہ رجب دین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بیٹھے ہیں ہم کو دیکھ کر خواجہ کمال دین صاحب نے ایک کتاب میری طرف پھینکی اور کہا یہ لو مرزا کی کتاب۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔اس کے بعد میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس گندے پیغامی تالاب کی طرف مت جاؤ۔جس میں گرے تھے چنانچہ میں نے اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بیعت کا خط لکھ دیا۔" ( الفضل 28 ستمبر 1937ء)