رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 576
476 شلوار پہنی ہوئی ہے اس کا کرتا اور دوپٹہ سفید ہیں ”سوسی ایک کپڑے کا نام ہے جو پرانے زمانہ میں پنجاب میں اکثر استعمال ہو تا تھا اس کپڑے کے درمیان سرخ سفید دھاریاں ہوتی تھیں یا اس میں مختلف قسم کے نشان ہوتے تھے۔اب اس کپڑے کا رواج نہیں رہا کیونکہ اب اس سے اچھی قسم کے کپڑے نکل آئے ہیں بہر حال وہ عورت میرے سامنے آئی اور اس نے مجھے سلام کیا۔میں سمجھتا ہوں یا وہ خود کہتی ہے) کہ وہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی بیوی ہے وہ سلام کر کے واپس لوٹی تو میں نے اسے بلایا اور کہا بی بی ذرا بات سنو جب وہ میرے پاس آئی تو جس طرح مجھے بیداری کے عالم میں یہ فکر تھا کہ سید نذیر حسین صاحب کا معلوم نہیں کوئی بیٹا بھی ہے یا نہیں اسی طرح خواب میں بھی مجھے یہی فکر ہے اور میں نے اس سے دریافت کیا کہ بی بی سید نذیر حسین صاحب کی کوئی اولاد بھی ہے اس نے کہا سید نذیر حسین صاحب کی اولاد مجھ سے تو نہیں مگر دوسری بیوی سے ہے اب مجھے یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں اس لئے اس خواب کی وجہ سے میں بہت حیران تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔اتفاق کی بات ہے کہ آج ڈاک آئی تو اس میں ایک خط چوہدری محمد عبد اللہ صاحب کا بھی نکل آیا انہوں نے لکھا ہے کہ پچھلے دنوں ربوہ گیا تھا تو حضور نے ایک دن مسجد میں مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں یا ایک اور پھر ان کا جو بیٹا موجود ہے وہ کس بیوی سے ہے میں نے کہا تھا کہ مجھے اس کا علم نہیں میں واپس آیا تو میں نے سید نذیر حسین صاحب مرحوم کے بیٹے کو سارا واقعہ سنایا اس نے کہا یہ درست ہے کہ میرے والد سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی دو بیویاں تھیں اور میں دوسری بیوی سے ہوں ان کی پہلی بیوی بد و ملی کی تھی جس سے ان کی کچھ ناچاقی ہو گئی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی تھی اس کے بعد انہوں نے میری والدہ سے شادی کی اور ان سے میں پیدا ہوا۔اب دیکھو کہ میں لنڈن میں بیٹھا ہوا ہوں وہاں اللہ تعالیٰ کے فرشتے آتے ہیں اور مجھے بتاتے ہیں کہ سید نذیر حسین صاحب مرحوم کی اولاد ہے اور وہ ان کی دوسری بیوی سے ہے۔الفضل 3۔جنوری 1956ء صفحہ 4-3