رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 577

477 610 16۔دسمبر 1955ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بچہ کئی منزلوں سے نیچے گرا ہے مگر پھر بھی وہ بچ گیا ہے اب کئی منزلوں سے نیچے گرنا یہی مفہوم رکھتا ہے کہ میں اچھی بھلی صحت کی حالت میں تھا کہ یکدم بیمار ہو گیا ہوں ایک منٹ پہلے میری اس بیماری کا کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا تھا میں ٹہلتے ٹہلتے قرآن کریم پڑھ رہا تھا کہ یکدم بیمار ہو گیا پس میری یہ بیماری کئی منزلوں سے گرنے کے مشابہ ہے اور پھر جس طرح رویا میں دکھایا گیا تھا کہ وہ بچہ بچ گیا اسی طرح میں بھی بچ گیا یہ رویا بہت لمبی ہے اس کا صرف ایک حصہ میں نے دوستوں کے سامنے بیان کر دیا ہے۔الفضل 3 جنوری 1956ء صفحہ 5 جنوری 1956ء 611 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایسے لوگوں کا فائل ہے جو سلسلہ کے مخالف ہیں اس فائل میں کچھ باتیں ہمارے خلاف لکھی ہیں میں کہتا ہوں یہ باتیں انہوں نے اپنا بجٹ بننے کے بعد لکھی ہیں پھر میں کہتا ہوں ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ تجارت میں لگ جائے اس کے بعد میں کہتا ہوں یا کسی اور دوست نے مجھ سے کہا ہے کہ تاجر لوگ بہت کم چندہ دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ تاجروں کو شروع سے ہی تحریک کر کے چندہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔رویا میں میں دیکھتا ہوں کہ گویا کوئی شخص مجھ سے کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو احمدی تاجروں نے بڑی قربانی کی تھی چنانچہ اس زمانہ میں سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی اور شیخ رحمت اللہ صاحب نے بہت بڑی خدمت کی تھی میں کہتا ہوں کہ تاجر طبقہ کو شروع سے ہی چندہ دینے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ جوں جوں ان کی تجارت بڑھے ، چندے بھی بڑھیں اور سلسلہ کی مالی حالت مضبوط ہو۔الفضل 28۔جنوری 1956ء صفحہ 5