رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 565
565 چھوٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے یہ الزام لگانے والے لوگ اپنے جھوٹ کا یا تو خود اقرار کریں گے یا ہم انہیں مجبور کر دیں گے کہ وہ اقرار کریں۔ہماری شرافت کی وجہ سے یہ لوگ اتنے دلیر ہو گئے ہیں مگر ہم اب جواب دینے پر مجبور ہو گئے ہیں یہ کہہ کر انہوں نے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو اشارہ کیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر انہوں نے ایک آلہ بنوا کے رکھا ہوا تھا اس اشارہ پر ایک شخص اس چیز کو اٹھا کر لے گیا وہ چیز کوئی پانچ چھ گز لمبی ہے اور اس کے اوپر کے حصہ کا تین چار گز قطر ہے لیکن بجلی کے بلب کی طرح وہ ایک طرف سے موٹی اور ایک طرف سے پتلی ہے وہ شخص اسے بڑی آسانی سے اٹھا کر سٹیج پر لے آیا اور حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ میں دے دیا وہ چیز آپ نے ہاتھ میں پکڑی اور کہا ابھی ان سے اقرار کروا دیتے ہیں پھر انہوں نے اپنی بائیں طرف دیکھا اسٹیج سے کوئی تین چار سو گز کے فاصلہ پر ایک پختہ باؤلی بنی ہوئی معلوم ہوتی ہے اس کی منڈیر بھی کوئی پندرہ میں فٹ اونچی ہے اور ایسی مضبوط بنی ہوئی ہے جیسے قلعہ کی دیوار ہوتی ہے آپ نے اس تارپیڈو کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور لہراتے ہوئے اس کو اس باؤلی کی طرف پھینک وہ چیز عین اس باؤلی کے اوپر جا کر اس کے اندر گری۔باؤلی کے اندر اس کا گرنا تھا کہ اس باؤلی میں سے ایک شور پیدا ہوا اور اس کا پانی اہل اہل کرنا ہر نکلنا شروع ہوا اور باؤلی میں سے آواز میں آنی شروع ہوئیں۔بک پڑے۔بک پڑے۔میں اس وقت یہ سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے شرارت کی تھی وہ بھاگ کر اس باؤلی میں چھپ گئے تھے اس باؤلی میں پانی کی سطح کے قریب بڑے بڑے طاقچے بنے ہوئے ہیں جن میں آدمی چھپ سکتا تھا پولیس کو ان لوگوں پر شبہ ہوا اور وہ ان کے پیچھے گئی لیکن وہ لوگ مصر تھے کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا سچ کہا تھا احمدیوں نے ہی ایسی شرارت کی تھی لیکن جب حضرت خلیفہ اول کی پھینکی ہوئی چیز کنویں میں جاکر گری اور کنویں میں ایک طلاطم پیدا ہو گیا تو انہوں نے سمجھا عذاب الہی آگیا ہے تو حقیقت بیان کر دی جس پر پولیس افسروں نے زور سے اطلاع دی کہ تبک پڑے۔بک پڑے یعنی انہوں نے حقیقت بیان کر دی اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے تقریر بند کر دی اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل پڑے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ قادیان میں نہیں بلکہ سرگودھا اور جھنگ کے علاقہ میں ہی ہیں گھوڑوں پر چڑھے ہوئے سینکڑوں آدمی اس راستہ پر سے اپنے گھروں کو جار ہے تھے یہ تو ایک راستے کا حال تھا چاروں طرف سے راستے جاتے تھے ان پر معلوم نہیں کتنے لوگ