رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 566

566 تھے میں اتنے گھوڑوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور میں نے دل میں کہا قادیان کے ارد گرد تو اتنے گھوڑے نہیں ہوتے تھے اس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ حضرت خلیفہ اول حضرت اماں جان کی تسلی کے لئے گھر میں آئے ہیں میں بھی اس کمرے میں چلا گیا جہاں حضرت (اماں جان) برقعہ یا چادر اوڑھے لیٹی تھیں حضرت خلیفہ اول کمرے میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ اماں جی یعنی ان کی اہلیہ بھی تھیں انہوں نے سیاہ برقعہ پہنا ہوا تھا اور ان کی عمر بھی اس وقت کوئی چالیس سال کی معلوم ہوتی تھی۔حضرت خلیفہ اول تو حضرت (اماں جان) کی طرف آگے بڑھے اور انہیں تسلی دینے لگے کہ خطرہ جاتا رہا ہے فکر کی بات نہیں اور میں ایک چارپائی پر اماں جی کے ساتھ بیٹھ گیا ان کے ہاتھ میں ایک مجلد کاپی پکڑی ہوئی تھی میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کاپی کیسی ہے انہوں نے کہا کچھ نہیں میں نے بھی ایک تقریر کی تھی۔وہ تقریر میں نے اس کاپی میں لکھی تھی میں نے وہ کاپی ان سے لے لی اور کھول کر وہ تقریر پڑھنی شروع کی۔وہ تقریر مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں نے ان سے کہا تقریر تو اچھی لکھی ہے اور دل میں کہا کہ جب حضرت خلیفہ اول باہر جانے لگیں گے تو ان کو مبارکباد دوں گا کہ اماں جی نے تقریر اچھی لکھی ہے اتنے میں وہ کمرے سے باہر نکلنے کے لئے اٹھے اور میرے پاس سے گزرے اور مجھے السلام علیکم کہا میں نے وعلیکم السلام کا جواب دیا اور اماں جی کی تقریر کا ذکر کرنا چاہا لیکن فور آمجھ پر حیا طاری ہو گئی اور میں تقریر کا ذکر نہ کر سکا حضرت خلیفہ اول کمرے سے نکل کر باہر چلے گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 26۔اکتوبر 1954 ء صفحہ 3 597 نومبر 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک شخص ایک پختہ سڑک کے کنارے کھڑا ہے اور لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بچپن کا ساتھی ہے اور ان کے ساتھ کھیلا ہوا ہے لوگ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات پوچھ رہے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات بتاتا جاتا ہے۔اسی سلسلہ میں اس نے بیان کیا کہ ہم شکار کو جایا کرتے تھے اور سرکاری رکھ کے پاس پاس شکار کو جاتے تھے اور ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں لگتا تھا کہ نماز کا وقت کب آیا اور کب گیا پھر حضرت مسیح