رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 564
564 کرنے والے کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا اور عورتوں سے کہا ایک طرف ہو جاؤ میں اس شخص کو دیکھنا چاہتا ہوں ان عورتوں میں ام طاہر بھی ہیں میں نے بازو سے زور دے کر ان کو پیچھے کیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ایسی زبردست تقریر ہے کہ ساری دنیا میں ایسی تقریر یا میں کر سکتا ہوں یا میرا نور الدین کر سکتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے میں نے سینہ پر ہاتھ مارا جیسا دعویٰ کرتے ہوئے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں مگر میں نے ساری عمر میں جاگتے ہوئے ایسا کبھی نہیں کیا اسی طرح میں نے کبھی حضرت خلیفہ اول کو نور الدین کہہ کر یاد نہیں کیا اور میرا "نور الدین“ کے الفاظ جو ایک کم عمر بے تکلف دوست کے لئے بولے جاتے ہیں اس کا تو کبھی خیال بھی نہیں آسکتا تھا حضرت خلیفہ اول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیار سے مرزا یا میرا مرزا کہہ دیا کرتے تھے لیکن ہم لوگوں نے ساری عمر انہیں بڑے مولوی صاحب، مولوی صاحب، حضرت مولوی صاحب اور حضرت خلیفہ اول کے نام سے ہی یاد کیا مگر خواب کی حالت میں ان کا ذکر ” میرا نورالدین " کہہ کر کرتا ہوں عورتوں کو ایک طرف ہٹا کر جب میں نے پر وہ ہٹایا تو تین چار سو گز کے اوپر ایک بہت بڑا پلیٹ فارم بنا ہوا دیکھا جس پر کچھ آرام کرسیاں اور صوفے ہیں لیکن مقرر کے سوا اور کوئی آدمی سٹیج پر نہیں جلسہ گاہ پلیٹ فارم سے چھپا ہوا ہے اس لئے سامعین بھی نظر نہیں آتے۔حضرت خلیفہ اول اپنے اسی سادہ لباس میں جس میں وہ ہوا کرتے تھے کھڑے تقریر کر رہے ہیں آخری عمر کی نسبت زیادہ جو ان معلوم ہوتے ہیں اور طاقتور معلوم ہوتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے غیر احمدی سامعین بیٹھے ہیں اور کچھ لوگوں نے شرارت کر کے ی بات پھیلا دی ہے کہ احمدیوں نے باقی مسلمانوں سے کچھ دشمنی کی ہے اس مضمون کو سامنے رکھ کر حضرت خلیفہ اول تقریر کر رہے ہیں سفید لباس پر ایک گرم واسکٹ پہنی ہوئی ہے اور سر پر اسی طرح پگڑی باندھی ہوئی ہے جس طرح وہ باندھا کرتے تھے جو پگڑی کی بجائے چادر باندھی ہوئی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔جس وقت میں نے پر وہ ہٹایا تو وہ یہ دلیل دے رہے تھے تم میں سے بعض نے کہا ہے کہ احمدیوں نے فلاں شرارت کی ہے احمدی پنجاب میں فلاں فلاں چار ضلعوں میں زیادہ ہیں اگر ابھی گھوڑوں پر چڑھ کر کچھ لوگ انہیں بلانے کے لئے چلے جائیں اور چاروں ضلعوں کے احمدیوں کو لے آئیں تو وہ سارے مل کر اتنے بھی نہیں ہوں گے جتنے کہ تم لوگ میرے سامنے بیٹھے ہو پھر کیا اتنے تھوڑے لوگ اس قسم کی شرارتیں کر سکتے ہیں کیا تم لوگ اتنی