رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 503

503 543 جنوری 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر بیٹھا ہوں اور میرے سامنے سرگودھا کے کچھ دوست ہیں جن میں سے ایک محمد اقبال صاحب پراچہ معلوم ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں آپ پھر دوبارہ سرگودھا میں لیکچر دیں اور میں کچھ معذوری کا اظہار کر رہا ہوں اس پر انہوں نے زور دینا شروع کیا اور ایک دوست نے کہا کہ وہاں کے لوگوں کو تو بہت ہی شوق ہے کہ آپ وہاں دوبارہ آکر لیکچر دیں آپ کے پہلے لیکچر کی وہ بہت تعریف کرتے ہیں میں نے اس کے جواب میں کہا کہ آج کل لوگوں کی یہ عادت ہے کہ دوسروں کو خوش کرنے کے لئے منہ سے تعریفیں کر دیتے ہیں اور دل میں کچھ بھی نہیں ہوتا اس پر ان صاحب نے جن کو میں محمد اقبال صاحب پر اچہ سمجھتا ہوں کہا کہ نہیں یہ تعریف کرنے والے بچے طور پر متاثر ہیں چنانچہ انہوں نے کہا کہ محمد شفیع نامی ایک شخص (جو کوئی تاجر ٹھیکہ دار یا کارخانہ دار یا ایسا ہی کوئی کام کرنے والا ہے) پہلے بہت مخالف ہوا کرتا تھا اور احمدیت کی بات سننا برداشت نہیں کرتا تھا اب اس کی یہ حالت ہے کہ بڑے افسوس سے یہ کہتا ہے کہ پھر کب آپ کے امام یہاں لیکچر دیں گے اور بعض دفعہ حسرت سے کہتا ہے کہ ہماری کہاں ایسی قسمت کہ وہ پھر یہاں لیکچر دیں۔الفضل 27۔جنوری 1952ء صفحہ 3 544 جنوری 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں جو بہت بڑا ہے کئی دالان اس میں ہیں۔کئی روشیں ہیں جیسے پرانے شاہی محلات ہوتے ہیں ایک دالان میں میں ہوں اور اس کے سامنے کے بر آمدہ میں شیخ عبد الرحمان صاحب مصری ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے ساتھ ہیں یہ خیال نہیں گزرتا کہ وہ تو بہ کر کے ہمارے ساتھ آملے ہیں یا یہ کہ ساتھ ہی ہیں بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اور ایک عورت بھی وہاں ہے بڑی عمر کی معلوم ہوتی ہے مگر کمزور نہیں بلکہ بڑی قد آور اور مضبوط عورت ہے جس دالان میں میں ہوں میری اس کے دروازوں کی طرف جو نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کے اوپر کانس پر ایک بڑا سانپ ہے کوئی پانچ چھ گز لمبا اور چھت کی بڑی کڑی کے برابر موٹا۔میری نظر پڑتے ہی وہ وہاں سے بھاگا اور میں نے کہا