رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 504

504 سانپ سانپ لیکن وہ اس دالان میں سے نکل کر آگے کی طرف چلا گیا میری آواز سن کر شیخ عبدالرحمان صاحب مصری اس کے پیچھے بھاگے اور تھوڑی دیر کے بعد مجھے ان کی شیخ کی آواز آئی جیسے کوئی ڈر کر تکلیف میں چیخ مارتا ہے میں نے کہا کہ شاید شیخ صاحب کو سانپ نے کاٹ لیا ہے وہ عورت جو وہاں تھی اس نے کہا۔نہیں۔یہ آپ کو یونہی خیال ہے۔میں نے کہا۔نہیں۔دیکھی ہوئی چیز کا خیال کس طرح ہو سکتا ہے۔سانپ میں نے خود دیکھا ہے۔اس پر وہ اس طرف بھائی جدھر سے آواز آئی تھی اور اس طرح شیخ صاحب کو اٹھا کر لے آئی جس طرح ختنہ کرنے کے بعد بچوں کو اٹھا کر لایا جاتا ہے ایک بازو پر سے ٹانگیں لکھی ہوئی ہیں اور دوسرے بازو پر سر رکھا ہوا ہے اور نہایت مضبوطی کے ساتھ ان کو اٹھائے ہوئے ہے پھر وہ ان کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے یہاں ان کو سانپ نے کاٹا ہے اور پھر ان کو کسی کرسی پر اس نے بٹھا دیا میرے دل میں خیال گذرتا ہے کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ساتھ میں سیر کے لئے جا رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب ذرا آگے چلے گئے تھے چنانچہ اس دالان کے سامنے ایک میدان ہے جس کے دونوں طرف عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور بیچ میں کھلی سی جگہ ہے میں سمجھتا ہوں اس کے سرے پر ڈاکٹر صاحب ہیں۔میں اسی طرح ننگے قدم جس طرح دالان میں ٹہل رہا تھا ڈاکٹر صاحب کی طرف چل پڑا ہوں اور آواز دیتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر صاحب پھر دوسرے آدمیوں سے کہتا ہوں جلدی ڈاکٹر صاحب کو بلاؤ اتنے میں کسی نے بتا دیا کہ سامنے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب چلے آرہے ہیں چنانچہ میں نے آگے بڑھ کر ان کو اطلاع دی کہ شیخ عبدالرحمان صاحب مصری کو سانپ نے کاٹ لیا ہے آپ جلدی آئیں اور ان کا علاج کریں اور میں انہیں بن ران کے قریب ہاتھ لگا کر کہتا ہوں کہ یہاں کاٹا ہے اور دو انگلیوں کی اس طرح شکل بنا تا ہوں گویا بہت بری جگہ پر کاٹا ہے ان کو تاکید کرکے میں لوٹا تو لوٹتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اس میدان کی ایک طرف عمارت کے چبوترے پر دیوار کے ساتھ ساتھ ویسا ہی ایک بڑا سانپ اس طرف جا رہا ہے جدھر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہیں۔میں انہیں ہوشیار کرنے کے لئے مڑا تو میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ میرا ایک بیٹا بھی ہے اور وہ اسی طرف چلے آرہے ہیں جس طرف سے سانپ نے گزرتا ہے میں نے انہیں آواز دی لیکن اس کے ساتھ ہی سانپ پھنکارے مارتا ہوا ان لوگوں کی طرف کو دا دہ دونوں زمین پر بیٹھ گئے اور ایک درمیانی گلی میں جو ایک بازو پر تھی اس میں سانپ گھس گیا اس گلی کے