رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 502

502 جب وہ شخص ان کو خبر دینے کے لئے پہنچا تو ایک ایسا واقعہ ہوا ( چونکہ مقدمہ عدالت میں ہے۔اس لئے تفصیل لکھنے کی ضرورت نہیں جس کی وجہ سے چوہدری ہدایت اللہ صاحب کے وہ بھائی بھی اور ان کا بیٹا بھی ایک سنگین جرم میں ماخوذ ہو گئے جس جرم کا الزام ایک ایسے واقعہ کی بناء پر لگایا گیا جو اس خواب کے سنائے جانے کے سولہ سترہ گھنٹہ کے بعد ظہور میں آیا۔اس طرح چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر اس رویا کا ایسی شان سے پورا ہو نا ان لوگوں کے ایمان کی بہت ہی زیادتی کا موجب ہوا جنہوں نے یہ رویا مجھ سے سنی تھی یا مجھ سے سننے والوں سے سنی تھی۔الفضل 27 جنوری 1952 ء صفحہ 3 541 جنوری 1952ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ گویا میں کھڑے ہو کر درس قرآن دے رہا ہوں اور اس مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا حضرت خلیفہ اول دونوں میں سے کوئی بیٹھے ہیں میری پشت پر جو لوگ ہیں ان میں وہ بھی بیٹھے ہیں حلقہ باندھے ہوئے چاروں طرف لوگ بیٹھے ہیں یہ یاد نہیں رہا کہ میں کس جگہ سے درس دے رہا ہوں صرف اتنا یاد ہے کہ قرآن کریم کے ابتداء یا آخر کا درس نہیں بلکہ آٹھویں نویں یا دسویں پارہ سے لے کر سترھویں اٹھارہویں پارہ تک کسی حصہ کا درس ہے۔الفضل 27۔جنوری 1952ء صفحہ 3 جنوری 1952ء 542 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور لالہ ملاوائل صاحب نے جو کہ فوت ہو چکے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جوانی کے دوستوں میں سے تھے میری دعوت کی ہے میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ ہندوؤں کے محلہ میں جانے میں کوئی خطرہ تو نہیں اس نے کہا نہیں جب لالہ ملاوامل نے دعوت کی ہے تو وہ لوگ احترام اور عزت سے پیش آئیں گے۔الفضل 27۔جنوری 1952ء صفحہ 3