رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 1
1 1 اگست 1898ء فرمایا : ”جہاں پر حضرت مسیح موعود نے اور دوستوں کو ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے دوران میں دعا کے لئے فرمایا وہاں مجھے بھی دعا کے لئے ارشاد فرمایا۔اس وقت میری عمر دس سال کی تھی اور یہ عمر ایسی ہوتی ہے کہ مذہب کا بھی کوئی ایسا احساس نہیں ہو تا۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر میں پولیس کے لوگ جمع ہیں اور دوسرے لوگ بھی ہیں پاتھیوں کا (اوپلوں کا ڈھیر ہے جس کو وہ لوگ آگ لگانا چاہتے ہیں لیکن جب بھی وہ آگ لگاتے ہیں آگ بجھ جاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ آؤ تیل ڈال کر پھر آگ لگا ئیں تب انہوں نے تیل ڈالا لیکن پھر بھی آگ نہ لگی اس وقت میری آنکھ اوپر کی طرف گئی اور میں نے دیکھا کہ ایک لکڑی پر موٹے الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ " خدا کے بندوں کو کوئی نہیں جلا سکتا" پس اگر خدا ہمارا ہو جائے اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے تو دنیا ہزار روکیں ہماری راہ میں پیدا کرے کوئی نقصان نہیں کر سکتی اور اگر خدا تعالٰی ہمارے ساتھ ہے تو دنیا کی بادشاہتیں اور حکومتیں بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔الفضل 3 جنوری 1925 ء صفحہ 11۔نیز دیکھیں :- الفضل 22 - جون 1933ء صفحہ 6، 7 و 23 جون 1937 ء صفحہ 65 و3 - جولائی 1941ء صفحہ 8 5 ستمبر 1958ء صفحہ 5 و 4 فروری 1959ء صفحہ 3 اور سیر روحانی حصہ اول صفحہ 271 270 ( شائع کردہ الشركته الاسلامیہ ربوہ) 2 +1899 1898 فرمایا : ایک دفعہ مجھے جنت دکھائی گئی تھی۔میری عمر اس وقت دس گیارہ برس کی ہوگی۔: دفعہ عمر دس گیارہ کی بہشتی مقبرہ کی بنیاد بھی اس وقت تک نہیں رکھی گئی تھی۔میں نے دیکھا۔میں اپنے باغ کے قریب باہر کے کھیتوں میں پھر رہا ہوں کہ مجھے کوئی کہتا ہے یہاں جنت ہے۔میں کہتا ہوں آؤ تو پھر جنت کو دیکھ لیں۔وہ مجھے کہتا ہے جنت کوئی دیکھنے نہیں دیتا۔میں نے اسے یہ مقدمہ یکم اگست 1897ء کو دائر ہوا اور 23 اگست کو اس کا فیصلہ سنایا گیا (مرتب)