رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 2
2 کہا کوشش کرتے ہیں شاید کسی طرح دیکھ لیں۔چنانچہ میں اس وقت زمین پر بیٹھ کر جیسے چڑیا کا شکار کیا جاتا ہے دوسروں کی نگاہ سے چھپتے ہوئے جنت کی طرف بڑھنے لگا۔گویا خواب میں میں فرشتوں سے چھپ کر جنت دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔جنت کے ارد گرد ایک منڈیر تھی۔میں آہستہ آہستہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور میں دل میں بڑا خوش ہوں کہ میں آخر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔منڈیر کے قریب پہنچ کر میں نے اندر جھانکا تو مجھے اس قسم کے خوبصورت رنگوں کے پھول نظر آئے جو کبھی دنیا میں نہیں دیکھے گئے۔میں ان پھولوں کو دیکھتے ہی بیتاب ہو گیا اور میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ ان میں سے ایک پھول کو تو ڈلوں مگر ابھی میں نے ایک پھول پر انگلی ہی لگائی تھی کہ اس کی پتی پتی میں سے فرشتے نکل آئے اور انہوں نے انگلی سے اشارہ کیا جیسے کہتے ہیں کہ ”ابھی نہیں "۔الفضل 2 - جون 1944ء صفحہ 1 +1899 1898 3 فرمایا : مجھے اپنا ایک رویا یا د ہے۔میری عمر دس گیارہ سال کی تھی بازار احمدیہ کی دکانیں ابھی نہ بنی تھیں اور مدرسہ احمدیہ بھی نہیں تھا اس جگہ ایک چبوترہ تھا شاید بعض عمارتیں بھی بنی ہوں۔لوگ یہاں کبڈی کھیلا کرتے تھے میری اس وقت اتنی عمر تو نہ تھی کہ کبڈی میں شامل ہو سکوں مگر دیکھنے چلا جاتا تھا اور بعض اوقات میرا دل رکھنے کے لئے مجھے بھی شامل کر کے دور کھڑا کر دیا کرتے تھے۔میں نے اس زمانہ میں خواب دیکھا کہ کبڈی ہو رہی ہے۔ایک طرف غیر احمدی ہیں اور دوسری طرف احمدی اور کبڈی وہ ہے جسے پنجابی میں جھل کہتے ہیں۔غیر احمد یوں کا جو آدمی آتا ہے احمدی اسے پکڑ کر اپنی طرف ہی رکھ لیتے ہیں حتی کہ صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہی رہ گئے۔آخر وہ بھی ایک دیوار سے لگ کر ایک کونے کی طرف کھسکنے لگے اور ہمارے قریب آکر کہنے لگے کہ اچھا۔اب میں بھی ادھر ہی آجاتا ہوں اور رویا میں بعض اوقات افراد سے مراد جماعت ہوتی ہے اگر چہ مولوی محمد حسین صاحب کو ظاہر اہدایت نہیں ہوئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر وقت میں ان کو حقیقت معلوم ہو گئی تھی۔چنانچہ وہ جماعت کے لوگوں سے ملنے لگ گئے تھے۔پیغام وغیرہ بھی بھیجتے رہتے تھے ایک دفعہ مجھے بٹالہ میں ملے بھی اور کہتے تھے کہ آپ سے تخلیہ میں باتیں کرنی ہیں۔