رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 466
466 سے ادا ہو سکیں۔الفضل 23۔نومبر 1950ء صفحہ 4-3 18۔نومبر 1950ء 509 فرمایا : میں صبح کی نماز کے وقت نماز پڑھ کر لیٹ گیا بالکل جاگ رہا تھا کہ کشفی طور پر دیکھا کہ کمرہ کے آگے برآمدہ میں میاں عبداللہ خان صاحب چار پائی سے اتر کر زمین پر کھڑے ہیں۔میں ہی ان کے سامنے ہوں ان کو جو کھڑے دیکھا تو اس خیال سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت بخشی ہے بے اختیار میرے منہ سے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نکلا اور پھر جیسا کہ عام طور پر ہمارے ملک میں نظر لگ جانے کا وہم ہوتا ہے مجھے بھی اس وقت خیال آیا کہ میری نظر نہ لگ جائے۔میں نے جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کرلیں اور پھر یہ نظارہ جاتا رہا۔اس وقت میں مکمل طور پر جاگ رہا تھا بالکل نیند کی حالت نہ تھی خواب میں مریض کو یکدم تندرست ہوتا دیکھنا عام طور پر منذر ہوتا ہے مگر چونکہ ساتھ الحمد للہ کہا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیک اور مبشر کشف ہے۔الفضل 23۔نومبر 1950 ء صفحہ 4 510 نومبر 1950ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ کسی شخص نے مجھے کچھ پھل بھیجے ہیں وہ ایک ٹرنک میں پڑے ہوئے ہیں ان پھلوں میں سے کچھ تو گلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور کچھ صاف ہیں ان میں سے ایک پھل میں نے نکالا ہے جس کی شکل گوشہ بگو یا ناشپاتی سے ملتی ہے یعنی ایک طرف اس کی بہت پتلی ہے اور دوسری طرف بہت موٹی ہے۔میں نے جب وہ پھل ہاتھ میں لیا تو قدرت نے اس کے اوپر کا سرا کاٹ دیا جیسے نارنگی کو کاٹتے ہیں لیکن نارنگی کو تو بیچ میں سے کاٹتے ہیں۔اس کا صرف اوپر کا سرا کاٹا گیا جب اس کا اوپر کا سرا کٹ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ پھل اس سے بہت بڑا ہو گیا ہے جتنا کہ میں نے اٹھایا ہوا تھا۔جہاں سے وہ کاٹا ہوا ہے وہاں سے اس کا چھلکا باقی مغز سے کسی قدر اونچا ہے اور مغز چھلکے کے کناروں سے ذرا نیچا ہے جیسا کہ فیرنی یا فالودہ کسی پیالہ میں ڈالتے ہیں۔اس کے جوف میں باریک باریک سوراخ بھی معلوم ہوتے ہیں۔میں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ اس میں ہے کیا چیز اس پھل کو بہت آہستگی سے انگلیوں سے دبایا جو نہی میری انگلیوں کا