رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 465
465 نہیں کر سکتا لیکن اکثر لوگ اس طرح اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ اپنے قرض خواہوں کو یہ جواب دے دیتے ہیں کہ ہم تو اپنی جائیدادیں لٹا بیٹھے ہیں اس لئے اپنے قرضے ادا نہیں کر سکتے لیکن میرے لئے یہ بات نا ممکن تھی اس لئے قدر تا میری طبیعت پر یہ بوجھ تھا کہ وہ کثیر قرضے جو قادیان کی جائیداد کو مد نظر رکھتے ہوئے بالکل معمولی کہلا سکتے ہیں اب میں ان کو کس طرح اتاروں گا میں نے ہر طرح کوشش کر کے ان قرضوں کو آہستہ آہستہ اتارنے کی کوشش کی لیکن کوشش کے بعد میں نے دیکھا کہ قدم اگر پیچھے نہیں گیا تو آگے بھی نہیں بڑھ سکا۔میں نے قادیان میں کچھ شہری اور سکنی زمین ایسی اکٹھی کی ہوئی تھی کہ جس کو فروخت کر کے ایک کافی حصہ قرض کا میں اتار سکتا تھا۔قادیان کی زمین کی قیمت 1947ء میں دو ہزار سے دس ہزار روپیہ کنال تھی اور میں نے دس ایکٹر زمین ایسی جمع کرلی تھی جسے مکانوں کے لئے فروخت کیا جا سکتا تھا اگر اسے فروخت کیا جاتا تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے قریب اس سے مل سکتا تھا۔اسی طرح منڈی کی زمینوں کا حصہ بھی ایک لاکھ روپیہ کی قیمت کا تھا۔مرزا شریف احمد صاحب نے اپنا حصہ قریباً ایک لاکھ روپیہ کو بیچ کر اپنے کارخانہ میں لگایا تھا میرا اور مرزا بشیر احمد صاحب کا حصہ باقی تھا جو ہم نے فروخت نہ کیا کہ پہلے مرزا شریف احمد صاحب اپنی ضرورت کو پورا کرلیں کہ اتنے میں پارٹیشن کا وقت آگیا اسی طرح لاہور میں میری کچھ زمین تھی جس کی قیمت پانچ ہزار سے چودہ ہزار روپیہ فی کنال اس وقت پڑ رہی تھی اور اقل ترین قیمت بھی اس کی ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ کے قریب تھی۔قادیان سے نکلنے کے بعد قادیان کی جائیداد تو اغیار کے قبضہ میں چلی گئی اور لاہور کی جائیداد بھی ہندوؤں کے جانے کی وجہ سے کم قیمت ہو گئی اور وہی چیز جس کی اوسط قیمت آٹھ دس ہزار روپیہ فی کنال تھی دو سال کی برابر کوشش سے اس کی دو ہزار روپیہ فی کنال دینے والا کا بگ بھی ابھی تک میسر نہیں آسکا پس یہ خیال کہ جن لوگوں کا روپیہ میں نے لیا ہوا ہے ان کو کس طرح ادا کیا جاسکے گا طبیعت میں فکر پیدا کرتا رہتا تھا کچھ عرصہ ہوا میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر قضائے حاجت کے لئے بیٹھا ہوں اور بڑی مقدار میں پاخانہ آیا ہے۔یہ رویا میں نے دو دفعہ دیکھی ہے بظاہر حالات تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں لیکن ان دونوں رویا کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر کوئی صورت بقیہ جائیدادوں کے فروخت ہونے کی یا ان کی آمد میں بڑھوتی کی ایسی پیدا کر دے گا جس سے لوگوں کے قرضے آسانی