رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 467
467 خفیف سا دباؤ اس پھل پر پڑا تو جیسے بیسیوں چشمے زمین میں ہوں اس طرح اس میں سے رس نکلنا شروع ہوا اور وہ اس طرح زور سے نکلنا شروع ہوا جیسے کوئی طاقت در چشمہ پھوٹتا ہے اور مغز کی تہہ پر وہ پانی جمع ہونا شروع ہوا میں اس خیال سے کہ بعض پھل خراب بھی تھے اسے غور سے دیکھتا ہوں کہ آیا اندر سے نکلنے والا رس کہیں گدلا تو نہیں لیکن وہ اتنا شفاف اور اتنا خوشبودار اور اتنا خوش رنگ معلوم ہوتا ہے کہ میں اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جیسے یہ ایک جنتی پھل ہے میں نے اسے چوسنے کے لئے سرجھکایا ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی۔الفضل 23۔نومبر 1950ء صفحہ 4 511 نومبر 1950ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک منافق جس کے نام کے معنے اچھے ہیں کھڑا مجھ سے باتیں کر رہا ہے اور میں حیران ہوں کہ اس کو میرے پاس آنے کا کیو نکر خیال پیدا ہوا شاید تعبیر نام میں ہو یا شاید کہ اس منافق کو کسی وقت اللہ تعالی ہدایت دے دے اور وہ اپنی منافقت سے توبہ کرلے۔الفضل 23 نومبر 1950ء صفحہ 4 19۔نومبر 1950ء 512 فرمایا : آج 19۔نومبر کو صبح کی نماز پڑھ کر دائیں طرف منہ کر کے لیٹا ہوا تھا کہ یکدم جاگتے ہوئے ایک کشفی نظارہ دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک کھلی جگہ میں میں ٹہل رہا ہوں اور تمام صحن میں چیونٹیاں ہی چیونٹیاں پھر رہی ہیں۔صحن ان سے بھرا ہوا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ میرے پاؤں تلے چیونٹیاں نہ روندی جائیں اور پاؤں بچا کر اور خالی جگہ دیکھ کر اس پر پاؤں رکھتا ہوں۔اس وقت دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ کیا جگہ ہے اور اتنی چیونٹیاں کیوں ہیں اس خیال کے آتے ہی دل میں اس کا یہ جواب گذرتا ہے کہ یہ حضرت سلیمان کی وادی ہے۔اور میں حضرت سلیمان کا مثیل ہوں اور اس پر وہ نظارہ جاتا رہا۔اس نظارہ کے جاتے ہی مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے چند دن بعد مجھے الہام ہوا تھا کہ اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شكراً یعنی اے داؤد کی نسل شکریہ کے ساتھ زندگی بسر کرو سو یہ نظارہ بھی اسی الہام کے