رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 442

442 ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا سلوک اپنے رنگ میں اور اپنے درجہ کے مطابق ان کے مشابہ ہی ہونا چاہئے۔بس میں نے اس آواز کو سن کر یہ نہیں کہا کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کب کیا ہے بلکہ یوں کہا کہ آپ یہاں تشریف لائیے میں آپ کو ساری بات سمجھا دیتا ہوں۔اس پر اس کمرہ میں سے جو ابا آواز آئی کہ ہمیں آپ کے پاس آنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے سمجھانا ہے تو آپ ہمارے پاس آکر سمجھائیں۔اس جواب کو سن کر وہ شریف غیر احمدی جو میری تبلیغ سن رہے ہیں انہوں نے بہت برا منایا اور جو چند احمدی میرے پاس تھے انہوں نے بھی برا منایا اور جب میں اٹھنے لگا تو انہوں نے مجھے روکا کہ آپ نہ جائیے ان کا رویہ نہایت گستاخانہ ہے لیکن میں نے کہا میری اس میں کوئی جتک نہیں سچائی کا پیغام سنانا میرا فرض ہے اس لئے میں خود ہی ان کے پاس جاتا ہوں چنانچہ میں گیلری کے اس سرے تک گیا جس کے پاس وہ کمرہ تھا جہاں سے آواز آئی تھی میرے ساتھ میرا ایک لڑکا بھی گیا ہے جو غالباً ڈاکٹر مرزا منور احمد ہے جب میں گیلری کے دوسرے سرے تک پہنچا تو اس کے پہلو کے کمرہ سے چند مشائخ جنہوں نے مشائخین کا لباس پہنا ہوا تھا اور جن کی ساری طرز وظیفہ پڑھنے والے مشائخین کی سی تھی باہر نکل آئے بڑے بڑے جسے انہوں نے پہنے ہوتے ہیں اور بڑی بڑی داڑھیاں ہیں۔ان میں سے جو سردار معلوم ہوتا ہے اس نے میرے ساتھ مصافحہ بھی کیا لیکن مصافحہ کر کے پھر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا نہیں بلکہ میرا ہاتھ پکڑے رکھا اس وقت میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا وہاں سے واپس چلا گیا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس پر یہ اثر ہوا ہے کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔میں دل میں سمجھتا ہوں کہ خطرہ ہے اور اس سے غلطی ہوئی ہے اسے جانا نہیں چاہئے تھا مگر میں نے اسے منع نہیں کیا۔اس جگہ پر کوئی قالین یا دری وغیرہ بچھی ہوئی نہیں لیکن عمارت ایسی ہے جیسے پرانی بادشاہی عمارتیں ہوتی تھیں اور پتھر کا فرش ہو تا تھا میں نے چاہا کہ اسی فرش پر بیٹھ جاؤں اور ان سے باتیں کروں اس وقت وہ شخص جو ان مشائخ کا سردار معلوم ہوتا ہے اس نے پاس پڑے ہوئے ایک پتھر پر بیٹھنا چاہا لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہیں کی بلکہ زمین پر نیچے بیٹھ گیا ابھی اس کا جسم پتھر پر نکا ہی ہو گا کہ اس نے دیکھا کہ میں زمین پر بیٹھا ہوں اور میں نے اس کے اوپر بیٹھنے کی کوشش پر برا نہیں منایا۔معلوم ہوتا ہے وہ دل میں یہ خیال کرتا تھا کہ وہ اوپر بیٹھے گا اور میں نیچے بیٹھوں گا تو یہ مجھے برا لگے گا اور مجھے اپنی ہتک محسوس ہوگی لیکن چونکہ مجھے اس کا احساس