رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 443

443 رو بھی نہیں ہوا اور میری کسی حرکت سے یا چہرہ کے رنگ سے اس پر ناپسندیدگی ظاہر نہیں ہوئی اس کا دل خود ہی شرمندہ سا ہو گیا اور وہ فور آکھسک کر نیچے میرے ساتھ بیٹھ گیا۔اس عرصہ میں میرا ہاتھ اس نے پکڑے رکھا اور دوسرے علماء جو اس کے ساتھ ہیں انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال لیا اور بعض نے میری کمر کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کے اور ہاتھ کو لمبا کر کے مجھے اپنے بازو کی گرفت میں لے لیا اور پھر میری قمیض کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر میرے ننگے جسم کے ساتھ اپنی انگلیاں پیوست کر دیں ان انگلیوں کے ناخن بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اس وقت میں نے سمجھا کہ مشائخ کے سردار نے میرا ہاتھ اس لئے پکڑے رکھا تھا کہ میں کہیں چلا نہ جاؤں اور اس کے سرے ساتھیوں نے میری کمر کے گرد اس لئے ہاتھ پیوست کر دیئے ہیں تاکہ مجھے گرفت میں لے آئیں اور مجھے جسمانی دکھ پہنچا ئیں چنانچہ انہوں نے اس طرح بات شروع کی کہ ہاں بتائیے خدا تعالیٰ نے جب موسیٰ کو بھیجا تو ان کو ایک طاقت بخشی اور جب مسیح علیہ السلام کو بھیجا تو ان کو ایک طاقت بخشی اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا تو ان کو ایک طاقت بخشی آپ کو خدا تعالیٰ نے کیا طاقت بخشی ہے جب مشائخین کے سردار نے یہ بات کی تو اس کے ساتھ ہی اس کے ساتھیوں نے بڑے زور سے اپنے ناخن میری پسلیوں میں چھونے شروع کئے اور بازوؤں کو بھینچنا شروع کیا جس سے یوں معلوم ہو تا تھا کہ وہ اپنے زور سے میرے سینہ کی ہڈیوں کو توڑنا چاہتے ہیں اور میرے گوشت کو زخمی کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح گویا وہ اپنی دلیل کو مضبوط کر رہے ہیں کہ آپ کو وہ طاقت نہیں ملی جو نبیوں کو ملا کرتی ہے اسی کے ساتھ ان میں ایک شخص نے زور کے ساتھ مجھے تھپڑ مارا تب میں نے ان کو جواب میں کہا کہ دیکھو یہ وہی تھپڑ ہے جو موسیٰ کو پڑا تھایا میں نے کہا عیسی کو پڑا تھا۔نام کی تعیین مجھے یاد نہیں رہی اور اس کو برداشت کر لینے کی ہی طاقت نبیوں والی طاقت ہوتی ہے تم نے مجھے بھینچ کر اور تھپڑ مار کے اور میں نے اس تھپڑ کو اور اس تکلیف کو صبر اور شکر کے ساتھ برداشت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ میں موسیٰ عیسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہوں اور آپ لوگ ان کے دشمنوں کے ظل ہیں اور وہ طاقت جس کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ میں نے تم پر ظاہر کر دی ہے گویا میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نبیوں کو جو نشان ملتا ہے وہ مار کی طاقت کا نہیں ہو تادہ صبر اور استقلال کی طاقت کا ہوتا ہے اور وہ صبر اور استقلال کی طاقت خدا تعالیٰ نے مجھ کو بھی بخشی ہے میں خود خوشی سے ان