رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 441
441 معاملہ کی اہمیت کو بھانپ کر یو این او یا امریکی اور برطانوی حکومتوں پر (یہ تعین مجھے یاد نہیں کہ آیا یو این او مراد تھی یا برطانوی اور امریکن حکومتیں اس سے مراد تھیں) واضح کیا کہ پاکستان اس خدمت میں بہت بڑا حصہ لے سکتا ہے اور یہ کہ کم سے کم ایک حصہ خدمت کا ایسا ہے جسے صرف - پاکستان ہی بجالا سکتا ہے اور ایسے زور سے اس معالمہ کو پیش کیا اور اتنے زبر دست دلائل دیئے کہ حکومتوں کو ان کے دعوی کی صداقت تسلیم کرنی پڑی اور بجائے اس کے کہ وہ خدمت کلی طور پر ہندوستان کے سپرد کی جاتی اس کا ایک حصہ پاکستان کے بھی سپرد کیا گیا جسے کامیاب طور پر پورا کرنے کی صورت میں پاکستان بہت بڑی اہمیت حاصل کرلے گا اور دنیا کی سیاست میں صف اول پر آجائے گا۔الفضل 25۔جنوری 1950ء صفحہ 4 جنوری 1950ء 494 فرمایا : چند دن ہوئے میں نے دیکھا کہ میں ایک گیلری میں ہوں جس کے ایک طرف ایک ہال میں احمدی عورتیں جمع ہیں اور اس کے ساتھ ایک جگہ میں احمدی مرد جمع ہیں اس گیلری میں میرے ساتھ صرف چند احمدی ہیں اور باقی کچھ لوگ غیر احمدی ہیں جن کو میں تبلیغ کر رہا ہوں اور وہ لوگ شریف معلوم ہوتے ہیں اور میری باتوں کو آرام سے سن رہے ہیں میں نے چند منٹ ہی تبلیغ کی تھی کہ اس لمبی گیلری کے ایک کنارہ پر سے ایک آواز آئی جو گیلری سے ملحقہ کمرے میں سے آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجتا ہے تو اسے ایک طاقت بھی بخشا کرتا ہے وہ طاقت آپ کے ساتھ کہاں ہے۔میں اس وقت رویا میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ میں نے تو نبوت کا کوئی دعوی نہیں کیا اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو تا بلکہ میں صرف اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نبی کو جو طاقت بخشی جاتی ہے وہ کیسی ہوتی ہے اور خیال کرتا ہوں کہ نبیوں کے خلفاء سے بھی تو نبیوں والا سلوک کیا جاتا ہے اس لئے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ آیا میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نائب ہونے کے دعویٰ کی وجہ سے میرے