رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 366
366 413 نومبر 1946ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں دہلی میں ہوں اور انگریز حکومت چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے ہیں اور ہندوستانیوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے اور بڑی خوشی کے جلسے کر رہے ہیں کہ حکومت ہمارے ہاتھ میں آگئی ہے۔ایک بہت بڑا چوک ہے اس میں کھڑے ہو کر بڑے زور شور سے لوگ تقریر کر رہے ہیں اور خطابات تجویز کر رہے ہیں کہ ہندوستان نے حکومت حاصل کی ہے فلاں کو یہ رتبہ دیا جائے اور فلاں کو یہ عہدہ دیا جائے۔میں نے ان کی ان خوشیوں کو دیکھ کر کھڑے ہو کر ان میں تقریر کی اور کہا یہ کام کرنے کا وقت ہے خوشیاں منانے کا وقت نہیں ، انگریز تو صرف عارضی طور پر پیچھے ہٹے ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پھر لوٹیں اور سب خوشیاں بیکار ہو جائیں اس لئے تقریر میں نہ کرو خوشیاں نہ مناؤ تنظیم اور تیاری کرو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں پر میری اس بات کا اثر ہوا ہے لیکن اکثروں پر نہیں ہوا اور وہ اس خوشی میں کہ ہم نے ملک پر قبضہ کر ہی لیا ہے نعرے مارتے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔جب وہ نعرے مار کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور میدان خالی ہو گیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے سے انگریزی فوج مارچ کرتی ہوئی چلی آرہی ہے اور میں نے کہا۔دیکھو۔وہی ہوا جس سے میں ڈرتا تھا اس وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اب جبکہ ملک آزاد ہو چکا ہے ملک کی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔میں اپنے دل میں سوچتا ہوں کہ کتنے آدمیوں سے میں یہ کام کر سکتا ہوں اور میں نے خیال کیا کہ اگر پندرہ سو آدمی جمع ہو جائیں تو ہم اپنی اس آزادی کو برقرار رکھ سکیں گے اس پر میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا : آخر وہی ہوا جو میں نے خواب میں کہا تھا پنڈت نہرو کو میرٹھ کانگرس کے اجلاس میں کہنا پڑا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز آہستہ آہستہ آزادی دینے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور انگریزوں کے ارادے اب بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ ہمیں آزدی دینے کو تیار نہیں۔جنگ احزاب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ سو سے پندرہ سو کے درمیان آدمی تھے اور بعض روایات میں دو ہزار کی تعداد بھی بیان کی گئی ہے لیکن بالعموم پندرہ سو کی تعداد ہی تاریخوں میں آئی ہے۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے یہ