رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 365
365 میرے پاؤں کی طرف جھکا تو میں نے اس کا سر پکڑ کر اونچا کر دیا اور کہا خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔میاں بشیر احمد صاحب سامنے بیٹھے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی توجہ میرے اس فعل کی طرف پھر انا چاہتے ہیں۔اس غرض سے انہوں نے حاضرین کو مخاطب کر کے کہا۔دیکھئے انہوں نے اس سکھ کو سجدہ کرنے نہیں دیا اس پر اس سکھ کو پھر جوش آ گیا اور وہ پھر سجدہ کرنے کے لئے جھکا۔اس پر میں نے اس کو پھر ہٹا دیا اور کہا یہ منع ہے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں مگر بڈھے نے تیسری دفعہ پھر سجدہ کرنے کے لئے اپنا سر جھکایا میں نے پھر اس کا سر پکڑ کر اونچا کر دیا اس پر اس نے کہا۔یہ میرا مذ ہب ہے آپ کو اس سے کیا۔یعنی آپ مجھے اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے سے کیوں روکتے ہیں۔میں نے کہا جب یہ بات خدا تعالیٰ نے ناجائز قرار دی ہے تو میں کس طرح اجازت دے سکتا ہوں کہ تم مجھے سجدہ کرو اس پر وہ بڑھا شور مچاتا ہے کہ یہ میرا مذ ہب ہے آپ کو اس سے کیا۔جب میں نے دیکھا کہ وہ سجدہ کرنے کے لئے زیادہ اصرار کر رہا ہے تو میں نے دوستوں سے کہا اس کو باہر نکال دو چنانچہ دوستوں نے اس کو پکڑ کر باہر نکال دیا اس کے بعد کسی شخص نے کوئی سوال کیا میں اس کے جواب میں کہتا ہوں میں تو سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے راستے میں جان دے دوں۔میرے امام بننے میں میری مرضی کا دخل نہیں بلکہ جو کچھ ہوا اللہ تعالٰی کے منشاء کے ماتحت ہوا۔میں تو اسلام کا ایک سپاہی ہوں اور خدا تعالیٰ کے راستہ میں جان دینا اپنی سب سے بڑی خواہش سمجھتا ہوں۔یہ کہہ کر میں کسی کام پر گیا جب کام کر کے واپس لوٹا تو اس وقت بھی راستہ میں دوستوں سے اس مضمون پر گفتگو کر رہا تھا کہ میں تو دین کا ایک سپاہی ہوں اور میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں مارا جاؤں مجھے تنظیم کرنے اور چندے کرنے اور اس قسم کے دوسرے کاموں سے کیا تعلق ہے خدا تعالیٰ نے مجھے ان کاموں پر لگا دیا تھا تو میں مجبور تھا ورنہ میں تو ایک سپاہی کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جانے کو پسند کرتا ہوں۔اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ سکھوں میں سے ایک طبقہ کے دل میں احمدیت کی محبت گھر کر گئی ہے اور وہ لوگ توجہ کے قابل ہیں اگر پورے طور پر ان کی طرف توجہ کی جائے تو وہ احمدیت قبول کرلیں گے۔انشاء اللہ۔الفضل 12۔نومبر 1946 ء صفحہ 3