رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 367
367 تعداد بتا کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ابھی تمہاری حالت جنگ احزاب کی سی ہے۔پس پندرہ سو آدمیوں سے مراد غزوہ احزاب کا طریق کار ہے اور اس خواب سے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی مشکلات آہستہ آہستہ حل ہوں گی۔فوری طور پر حل نہیں ہو سکتیں ہاں جس طرح غزوہ احزاب آخری جنگ تھی اسی طرح اب ہندوستان کی آزادی کے لئے جو جد وجہد ہوگی وہ بھی آخری جد و جہد ہو گی۔الفضل 8۔دسمبر 1948ء صلحہ 13 6۔دسمبر 1946ء 414 فرمایا : آج رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے میں دوستوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں میں نے دیکھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا حضرت مسیح موعود عليه الصلوٰۃ والسلام (اس وقت پوری طرح یاد نہیں) لوگوں کے گھروں پر آتے ہیں اور جس گھر پر آتے ہیں اس کا دروازہ اگر بند پاتے ہیں تو واپس چلے جاتے ہیں۔ایک گھر پر میں نے ایک بورڈ لگا ہوا دیکھا جس پر احمد منزل یا اس کے قریب قریب کوئی نام لکھا ہو ا تھا وہ گھر مجھے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب یا پیر منظور احمد صاحب کا معلوم ہوتا ہے۔خواب میں میں کہتا ہوں کہ انہوں نے بہت اچھا بورڈ لگایا ہے اگر اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ یہ ہمارا امکان ہے اور اس کے اندر آجائیں گے۔اس کو دیکھ کر میرے دل میں بھی خیال پیدا ہوا کہ میں بھی ایک مکان بنواؤں اور اس پر اس قسم کا بورڈ لگاؤں چنانچہ خواب میں ہی میں مکان تعمیر کرتا ہوں (خواب کے نظارے بھی عجیب ہوتے ہیں) میں دیکھتا ہوں کہ ایک مکان مجھے نظر آ رہا ہے اس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ میں نے ہی بنوایا ہے اس کے باہر میں نے چونے کی ایک لمبی سی صاف جگہ بنادی ہے اور اس پر موٹے حروف سے یہ عبارت لکھوائی ہے ” میرے آقا یہ مکان آپ کا ہے۔میرا تو نہیں " میں سمجھتا ہوں کہ جس مکان پر یہ بورڈ لگا ہوا ہو گا اس مکان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام داخل ہو جائیں گے ہاں ایک بات بیان کرنا رہ گئی تھی خواب میں میں نے پہلے ایک لمبی عبارت تجویز کی ہے کہ اس جگہ تفصیل کے ساتھ لکھوا دوں لیکن جگہ اتنی نہیں اس لئے میں نے یہ مختصر سا فقرہ تجویز کیا کہ ”میرے آقا یہ مکان آپ کا ہے