رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 351
351 406 22 23۔اکتوبر 1946ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں اور کہہ رہا ہوں اے خدا جب کبھی میں بہار ہوتا ہوں تو تو کمال محبت سے میری خبر گیری کرتا ہے مگر میرے دل میں خلش جو تیرے وصال اور قرب کے لئے ہے اسے تو کیوں پورا نہیں کرتا۔کیا وجہ ہے کہ جب تو میری ہر خواہش کو پورا کر دیا کرتا ہے تو میری یہ خواہش کہ مجھے تیرے قرب کا کمال حاصل ہو۔پوری نہیں ہوتی یہی دعا کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کو سمجھنے کے لئے سورۃ فاتحہ کو سمجھنا ضروری ہے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کیوں پڑھتے تھے کیا انہیں صراط مستقیم اب تک نصیب نہیں ہوا تھا۔اس کا جواب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے صراط مستقیم کی دعا سکھائی ہے کسی منزل کی نہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ غیر محدود ہے اس لئے اس کی طرف جانے والا صراط بھی غیر محدود ہے جب انسان خدا تعالیٰ سے اتصال پیدا کر لیتا ہے اس کے بعد اسے دوسرا درجہ جو پہلے سے اعلیٰ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے اور وہ اس کے لئے دعا شروع کر دیتا ہے اور اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے نہ صرف اس دنیا میں بلکہ اگلے جہان میں بھی اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے۔عشق الہی اور مخلوق کے عشق میں یہی فرق ہے۔مخلوق کا عشق وصال کے بعد ٹھنڈا پڑ جاتا ہے کیونکہ جو کچھ ملنا تھا مل گیا مگر اللہ تعالیٰ کا عشق وصال کے بعد اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ وصال کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اوپر وصال کے مقام اور بھی ہیں اور جب ان کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر اور بڑا انکشاف ہوتا ہے اور اسی طرح ہوتا جائے گا اور ابدا الاباد تک یونہی ہوتا جائے گا۔تب انسانی روح جو غیر محدود کی کنہ کو نہیں پاسکتی یقین کامل کے درجہ تک پہنچ جائے گی کہ میرا خدا غیر محدود ہے اور اس کا علم الیقین، حق الیقین میں بدل جائے گا۔الفضل 31۔اکتوبر 31946 407 26 یا 27۔اکتوبر 1946ء فرمایا : رویا میں دو الفاظ مجھ پر الہاما نازل ہوئے۔پہلا لفظ تو بھول گیا لیکن دوسرا سلاما یاد