رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 352

352 رہا بعد میں میں نے قرآنی آیات پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ایک آیت كُونِي بَرْدًا وَسَلَاماً (الانبیاء : 70) کی ہے مگر یہ آیت یقینا نہیں تھی میرا ذہن زیادہ تر صِدْقًا و سلاما قسم کے الفاظ کی طرف جاتا تھا اور پہلی رویا جو اس کے بعد دکھائی گئی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔الفضل -4- نومبر 1946ء صفحہ 2 408 29۔اکتوبر 1946ء فرمایا : آج رات تین بجے کے قریب تہجد کے وقت میں نے ایک رویا دیکھا مجھے یہ نظارہ نظر آیا کہ میرے سامنے ایک نیلے رنگ کا کاغذ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کاغذ پر کوئی شعر لکھ رہا ہوں۔میرے دائیں طرف کوئی ہستی کھڑی ہے جو ہیولی کی طرح معلوم ہوتی ہے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں یا کوئی فرشتہ ہے بہر حال استاد کی طرح معلوم ہوتی ہے ویسے اس کی شکل تو آدمی کی طرح ہے مگر مادی نہیں بلکہ روحانی ہے۔دو شعر میں نے لکھے ہیں ان کے نیچے تیسرا شعر لکھ رہا ہوں۔پہلا مصرعہ یوں ہے۔رہے وفا و صداقت۔۔۔۔۔۔۔۔پر پہلے میں نے وفا کی جگہ کوئی اور لفظ لکھا مگر اس ہستی نے کٹوا کر اس جگہ وفا لکھوایا یعنی رہے وفا و صداقت پہ۔" یہ بھی صحیح طور پر یاد نہیں رہا کہ لفظ " رہے تھا یا ” رہیں تھا اس کے بعد الفاظ یوں تھے۔”میرا پاؤں مدام " یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ لفظ ” مدام " تھایا ” مقام " یعنی مصرعہ یوں ہے کہ رہے وفا و صداقت پہ میرا پاؤں مدام یا اس طرح کہ رہے وفا و صداقت پہ ہمیشہ میرا مقام بهر حال ان دنوں شکلوں میں سے کوئی ایک ہے۔ہاں پہلی شکل جب میں جاگا ہوں تو ذہن پر غالب تھی اور اٹھ کر یہی الفاظ میری زبان پر تھے یعنی