رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 350

350 نہیں ہیں اس لئے مجھے رشتہ کرنے سے ڈر بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر اس کا برا اثر نہ پڑے۔میں نے انہیں کہا کہ اگر انسان میں ہمت ہو تو وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈال سکتا ہے کجا یہ کہ دوسروں سے اثر ہے۔بہر حال خواب میں اس شخص کی آواز سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ ماسٹر غلام محمد صاحب ہیں وہ اپنے ان الفاظ کو بار بار دہراتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب میں فلاں نقص ہے۔مولوی محمد علی صاحب میں فلاں نقص ہے اور مولوی محمد علی صاحب میں بد دیانتی کا بھی نقص ہے۔ہم نے جب نماز ختم کی تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کمرے کا چکر کاٹ کر دروازہ سے گزرے اور میرے پہلو میں آکر گر گئے۔میں نے ان کی طرف توجہ کی اور اس خیال سے کہ انہیں کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔پہلے میں نے ان کے جسم پر ہاتھ رکھا مگر وہ لیٹے لیٹے ہی جوش میں اپنے الفاظ کو دہراتے جاتے ہیں۔پہلی دو باتیں تو مجھے یاد نہیں تیسری بات یاد ہے وہ کہتے تھے مجھے مولوی محمد علی صاحب کی دیانت پر بھی اعتراض ہے۔میں رویا میں ہی ان سے کہتا ہوں کہ مجھے بھی مولوی محمد علی صاحب کے خلاف ان کی دیانت کے متعلق شبہ ہے۔یہ کہتے وقت میرا ذہن قرآن کریم کے ترجمہ کی طرف گیا ہے جو سلسلہ کے روپیہ سے تیار ہوا اور وہ جاتے وقت اپنے ساتھ لے گئے۔اسی طرح یہاں کی کتب مانگ کرلے گئے اور واپس نہ کیں۔باقی دو باتوں کے متعلق میں کہتا ہوں کہ جب تک ثبوت نہ ملے میں ان کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب تک کسی الزام کا ثبوت نہ ہو اسے نہ مانا کرو۔اس وقت میں نے قرآن کریم یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے یوں کہا ہے بلکہ میں کہتا ہوں خدا تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب تک کسی کے خلاف ثبوت موجود نہ ہو میں کوئی بات نہ مانا کروں اس لئے میں تمہاری یہ بات نہیں مان سکتا۔جب میں نے یہ کہا تو ایک شخص جو میرے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے اس کا چہرہ کچھ متغیر سا ہو گیا اس کے چہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ یہ سوچ کر حیران ہے کہ مولوی محمد علی صاحب میں تو یہ بات پائی جاتی ہے کہ آپ کے خلاف انہیں کوئی ذراسی بات بھی کی جائے تو خواہ وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو اسے خوب پھیلاتے ہیں مگر آپ کی یہ حالت ہے کہ خود مولوی صاحب کی پارٹی میں سے ایک آدمی کہ رہا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب میں یہ یہ نقائص ہیں مگر آپ کہتے ہیں جب تک ثبوت نہ ہو میں ماننے کے لئے تیار نہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 31۔اکتوبر 1946 ء صفحہ 3-2