رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 268

268 اس کی حفاظت کر اور اسے ترقی دے پھر میں نے کہا وقت ہو گیا ہے میں اسے چھوڑ آؤں چنانچہ میں اسے چھوڑنے کے لئے گیا۔میں اس کے ساتھ جارہا تھا اور یہ خیال کر رہا تھا کہ میں نے تو اس کی ترقی کے لئے دعا کی ہے اور ہم انگریزوں کے ماتحت ہیں اور ان کے ساتھ ان کی لڑائی ہے یہ میں نے کیا کیا ہے لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ وہ ہٹلر عیسائی ہے اور یہ ہٹلر احمد کی ہو چکا ہے اس لئے اس کے لئے دعا کرنے میں کیا حرج ہے۔یہ رویا بھی بتاتی ہے کہ نائسی قوم اسلام کی طرف توجہ کرے گی اور ایک ہی ہفتہ میں اس بات کا پتہ لگنا کہ ایک بڑے نائبسی لیڈر کا لڑکا اسلام کی طرف مائل ہے اور اس میں دلچسپی لے رہا ہے اور پھر پروفیسر ٹلٹاک کا بتانا کہ وہ خود بھی ناٹیوں کے بڑے لیڈ رتھے بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک روچلا رہا ہے۔الفضل 8۔فروری 1945ء صفحہ 3 342 10۔جنوری 1945ء فرمایا : میں نے ایک رویا دیکھا جو صبح بھول گیا اس دن ملنے والوں میں مولوی نورالدین صاحب منیر بھی تھے۔وہ تبلیغ کے متعلق اپنی رپورٹ لائے تھے ضلع گورداسپور کے متعلق سوال تھا کہ مبلغین کہاں کہاں بھیجے جائیں انہوں نے میرے آگے نقشہ پھیلا دیا ہم نقشہ دیکھ رہے تھے تا مبلغین کے لئے جگہیں تجویز کریں کہ دیکھتے دیکھتے ایک گاؤں طالب پور آگیا انہوں نے کہا یہ طالب پور ہے اور اس کے نزدیک بھنگواں ہے یہاں بھی ایک مبلغ رکھا جا سکتا ہے میں نے انہیں کہا کہ آپ نے طالب پور کا نام لے کر مجھے ایک خواب یاد کرادی ہے۔خواب میں میں نے دیکھا کہ طالب پور کے ایک احمدی ہیں وہ میرے سامنے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں سفر پر کہیں دور جا رہا ہوں اس کا اگلا حصہ مجھے یاد نہیں رہا۔رویا میں بعض دفعہ انسان کسی کو دیکھتا ہے تو اس کا تعلق اس شخص کے رشتہ داروں سے ہو تا ہے خود اس کی ذات سے نہیں ہو تا اگر باپ کو دیکھا جائے تو بیٹا مراد ہوتا ہے اگر بیٹے کو دیکھا جائے تو باپ مراد ہو تا ہے پیر کو دیکھا جائے تو مرید مراد ہوتا ہے اور اگر مرید کو دیکھا جائے تو پیر مراد ہو تا ہے بہر حال یہ ایک رویا تھا جو میں نے دیکھا اور جس میں کسی احمدی دوست کے کسی دور کے سفر پر جانے کا اشارہ تھا۔