رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 269
269 دوسرے دن چوہدری انور احمد صاحب کاہلوں جو چوہدری نذیر احمد صاحب کے داماد ہیں مجھے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے میں سسرال سے آیا ہوں اور اب کلکتہ جا رہی ہوں اس طرح یہ خواب دو سرے ہی دن پوری ہو گئی اور خواب کے تیسرے دن چوہدری نذیر احمد صاحب کی لڑکی آئیں اور بارہ بجے کے قریب مجھے اندر سے پیغام آیا کہ چوہدری نذیر احمد صاحب کی لڑکی آئی ہیں اور وہ رخصت ہونا چاہتی ہیں۔میں کام چھوڑ کر اندر گیا اور انہیں رخصت کیا انہوں نے بھی بتایا کہ میں کلکتہ جارہی ہوں اس طرح یہ خواب ایک دفعہ پھر اپنی ظاہری شکل میں پوری ہو گئی۔اس رویا کا یہ ایک عجیب پہلو ہے کہ پہلے دن نقشہ کے ذریعہ خواب یاد آئی دوسرے دن چوہدری نذیر احمد صاحب کے داماد ملے جو کلکتہ جا رہے تھے اور تیسرے دن ان کی بیٹی آکر مل گئیں اور کہا کہ میں کلکتہ جا رہی ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رویا دکھایا جاتا ہے وہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے پورا کیا جاتا ہے تاکہ دیکھنے والے کے ایمان میں زیادتی پیدا ہو اور اس کی روحانیت ترقی کرے۔الفضل 8۔اگست 1951ء صفحہ 3 343 14/13۔جنوری 1945ء فرمایا : درس شروع کرنے سے پہلے میں اپنے دو ر و یا سناتا ہوں تین چار دن ہوئے میں نے ایک رؤیا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر غلام غوث صاحب جیسے سٹیشن سے آکر کہتے ہیں کہ میں ٹکٹ خرید لایا ہوں۔اپنا بھی اور آپ کا بھی اور سید ولی اللہ شاہ صاحب کا بھی اور ایک دو پہریداروں کا بھی انہوں نے ذکر کیا کہ ان کا بھی ٹکٹ خرید لایا ہوں۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی لمبے سفر پر جاتا ہے لیکن ذہن میں نہیں آتا کہ کس سفر پر جاتا ہے۔فرمایا : ناموں کے لحاظ سے اس خواب کی تعبیر بہت اچھی ہے غلام غوث سے پناہ اور استعاذہ کی طرف اشارہ ہے ولی اللہ بھی اچھا نام ہے یعنی خدا کا دوست اور ان کا دوسرا نام زین العابدین بھی یعنی عبادت گزاروں کی زینت۔الفضل 31۔جنوری 1945ء صفحہ 3