رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 267
267 جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں اڑ رہا ہوں اور جب میں قدم مارتا ہوں تو میرا قدم ایک فٹ یا دو فٹ پر نہیں بلکہ سو سوفٹ پر جاپڑتا ہے اس طرح چلتے چلتے میں ایک جگہ پہنچا ہوں جو نواب صاحب کی کوٹھی ہے میں وہاں اترا تو دیکھا کہ وہاں اماں جان موجود ہیں میں حیران ہوں کہ یہ یہاں مجھ سے پہلے کس طرح پہنچ گئیں میں تو ان کو پیچھے چھوڑ آیا تھا۔پھر میں یہاں سے بھی آگے چلتا ہوں اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ راستہ گھاٹیوں سے نہیں بلکہ نواب صاحب کے کمروں میں سے ہو کر جاتا ہے میں ان کمروں میں سے گزرتا چلا جاتا ہوں وہاں قالین اور غالیچے وغیرہ بجھے ہوئے ہیں آخر راستہ طے کر کے میں اس جگہ پہنچتا ہوں جہاں ہمارے ٹھہرنے کا انتظام ہے میں دیکھتا ہوں کہ وہاں بھی حضرت اماں جان موجود ہیں میں حیران ہوں کہ وہ یہاں بھی آگئی ہیں اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ ہم پر حملے ہوں گے مگر خد اتعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمارے ساتھ ہو گی اور اس کی رحمت اور فضل ہمارے شامل حال ہو گا ہم پر دشمنوں کی طرف سے الزام کا لگایا جاتا اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا اس کی تردید کرنا اور پھر ہمارا حفاظت کے مقام پر پہنچ جانا یہ بتلاتا ہے کہ ہمیں مشکلات تو پیش آئیں گی نیز خداتعالی کے فضل اور رحمت اور اس کی تائید کے ساتھ ہم ان مشکلات میں سے بیچ کر نکل جائیں گے۔الفضل 8 اگست 1951 ء صفحہ 3-4 341 جنوری 1945ء فرمایا : 1945ء کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ ہٹلر ہمارے گھر میں آیا ہے پہلے مجھے پتہ لگا کہ ہٹلر قادیان میں آیا ہوا ہے اور مسجد اقصیٰ میں گیا ہے میں نے اس کی طرف ایک آدمی دوڑایا اور کہا کہ اسے بلا لاؤ۔چنانچہ وہ اسے بلالایا میں نے اسے ایک چارپائی پر بٹھا دیا اور اس کے سامنے میں خود بیٹھ گیا میں نے دیکھا کہ وہ بے تکلف وہاں بیٹھا تھا اور ہمارے گھر کی مستورات بھی اس کے سامنے بیٹھی ہیں میں حیران تھا کہ ہماری مستورات نے اس سے پردہ کیوں نہیں کیا۔پھر مجھے خیال آیا کہ ہٹلر چونکہ احمدی ہو گیا ہے اور میرا بیٹا بن گیا ہے اس لئے ہمارے گھر کی مستورات اس سے پردہ نہیں کرتیں پھر میں نے اسے دعادی اور کہا اے خدا ! تو