رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 252
252 بعد میں اس کی تعبیر سمجھ میں آئی کہ مفتی فضل الرحمان صاحب طبیب تھے ان کے دکھائے جانے سے بیماری کی طرف اشارہ ہے اور ان کا چہرہ صاف نظر نہ آنے کی تعبیر یہ ہے کہ یہ تکلیف دیر تک رہے گی۔الفضل 5۔دسمبر 1944ء صفحہ 1 اکتوبر 1944ء 323 فرمایا : انہی دنوں ایک اور رویا دیکھا کہ مجھے لیموں کا گلاس دیا گیا۔لیموں تقویت قلب کے لئے مفید ہوتا ہے۔اس لئے یہ رویا مبشر ہے ممکن ہے بیماری کی طرف بھی اشارہ ہو۔الفضل 5۔نومبر 1944ء صفحہ 1 324 اکتوبر 1944ء فرمایا : یہ انہی دنوں کا رویا ہے جب میں ڈلہوزی سے قادیان آیا تھا عید سے شاید پہلے کی بات ہے میں نے دیکھا کہ اپنی بیوی عزیزہ بیگم کے ہاں سویا ہوا ہوں کہ میری آنکھ کھل گئی اور مجھے خطرہ کی صورت نظر آئی اس پر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اس وقت میری دوسری بیوی بشری بیگم دوڑتی ہوئی اندر آئیں اور عزیزہ بیگم کو آوازیں دینے لگیں کہ جلدی آؤ اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ خطرہ کی جو آواز مجھے سنائی دی تھی ان کو بھی اس کا پتہ لگ گیا ہے مگر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھے بغیر کہا کیا تم کو پتہ لگ گیا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا کس طرح۔تو انہوں نے مسجد کے ساتھ جو کمرہ ہے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا مجھے اس کمرہ میں آہٹ آئی تھی کہ دشمن اندر آنا چاہتا ہے۔اس رویا میں جو نام آئے ہیں عزیزہ اور بشریٰ وہ مبارک نام ہیں اور دشمن کے متعلق قبل از وقت اطلاع کا ہو جانا بھی اچھی فال ہے ممکن ہے اس رویا میں اس مقدمہ کی طرف اشارہ ہو جو کسی نے دفعہ 107 کا دائر کیا تھا اور جو خارج ہو گیا ہے یہ رویا اس کے دائر ہونے سے بھی دو ہفتہ پہلے کا ہے۔الفضل 5۔نومبر 1944ء صفحہ 1