رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 253
253 325 اکتوبر 1944ء فرمایا : ایک اور رویا میں نے دیکھا یہ شاید اس وقت کا ہے جب میں عید کے موقع پر قادیان آیا یا اس سے پہلے کا ہے یہ بات اچھی طرح یاد نہیں ہے میں نے دیکھا کہ میں بیمار ہوں اور ایک مکان میں ہوں جو ہمارے مکان سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔رات کا وقت ہے کرنل اوصاف علی خان صاحب جو آج کل دہلی میں رہتے ہیں میرا علاج کر رہے ہیں وہ طبیب نہیں ہیں مگر خواب میں ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ جب وہ طبیب نہیں ہیں تو علاج کیوں کر رہے ہیں بہر حال ساری رات وہ علاج کرتے رہے۔اور صبح کے وقت طبیعت درست معلوم ہوئی اتنے میں صبح کی اذان ہوئی اور انہوں نے مجھے یا میں نے ان کو توجہ دلائی کہ اب نماز پڑھ لیں اس پر وہ کسی اور طرف وضو کے لئے چلے گئے اور میں پاس ہی ایک گھرا تھا اس کے پاس بیٹھ کر وضو کرنے لگا مگر میرے وضو کرتے کرتے ہی یوں معلوم ہوا کہ سورج نیزہ بھر اوپر نکل آیا ہے گویا اتنی سی دیر میں کہ میں اذان کے معا بعد وضو کرتا ہوا پاؤں دھونے تک پہنچا کہ سورج نکل آیا اس پر میں گھبرایا کہ یہ کیا ہو ا نماز کا وقت تو فوت ہو گیا اور آنکھ کھل گئی۔کچھ دیر بعد میرے دل پر منکشف ہوا کہ خواب بہت مبارک ہے ایک تو بیماری سے صحت کی خبر ہے دوسرے معالج اوصاف علی خان ہیں یعنی خدائے علی کی صفات۔تیسرے نماز میں دیر میری سستی کی وجہ سے نہیں بلکہ سورج ہی غیر معمولی طور پر جلدی نکل آیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ اسلام پر جو تاریکی کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے دور کرنے کے لئے غیر معمولی سامان پیدا کر دے گا۔یہ خواب گویا اس الہام کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مجھے پہلے ہو چکا ہے۔" روز جزاء قریب ہے اور راہ بعید ہے "۔الفضل 5 نومبر 1944ء صفحہ 2 326 اکتوبر 1944ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ امریکہ میں الیکشن ہو رہا ہے اور اس کی خبریں باہر پہنچائی جارہی ہیں۔ایک خبر میں کہا گیا کہ پہلے مسٹر روزویلٹ کے ووٹ زیادہ تھے مگر پھر مسٹر ڈیوی کے زیادہ ہو گئے ہیں۔ممکن ہے کہ اس رویا کے معنے یہی ہوں کہ گو اس وقت جنگ کے غصہ کی وجہ سے مسٹر