رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 251

251 دل میں گزرتی ہیں اگرچہ کوئی ایسا واقعہ میرے سامنے نہیں ہو تا۔اندھیرے کی وجہ سے میں اس آدمی کو پہچان نہیں سکا شاید اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اندھیرے میں دکھایا کہ اس کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے اور شاید اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہو کہ وہ آدمی اس فعل کی وجہ سے تاریکی میں ہے بہر حال میں اسے دیکھ نہیں سکتا مگر مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ایک کے ساتھ اس کا سلوک اچھا نہیں اور میں بغیر اس کے کوئی آدمی وہاں کھڑے ہوں جنہیں میں مخاطب کروں آپ ہی آپ کہتا ہوں کہ آؤ ہم اس ظلم کو مٹا دیں"۔الفضل 31۔اگست 11944 اکتوبر 1944ء 321 فرمایا : دو مہینے کے قریب عرصہ گزرا کہ میری زبان پر یہ الفاظ جاری کئے گئے کہ بَلَوْنَاهُمْ فِتْنَةٌ قرآن کریم کے استعمال اور لغت کے محاورہ کی رُو سے ان الفاظ میں حذف ہے یعنی دراصل فقره بَلَوْنَاهُمْ بِالشَّرِ فِتْنَهُ يا بَلَوْنَاهُمْ بِالْخَيْرِ فِتْنَةٌ ہے یا پھر یہ دونوں الفاظ اس میں ہوں جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ بلو نَاهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيِّاتِ (الاعراف : (169) اگر یہ فقره بَلَوْ نَاهُمْ بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بعض نیکیاں دشمن کو خدا تعالیٰ پہنچاتا ہے تاکہ اسے توبہ نصیب ہو مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ شر میں پڑ جاتا ہے اور بعض دفعہ اس کے لئے شر پیدا کیا جاتا ہے تاوہ نیکیوں کی طرف لوٹے مگر پھر بھی وہ تو بہ نہیں کرتا اور اس طرح پر حجت پوری ہو جاتی ہے اور وہ الہی گرفت میں آجاتا ہے۔الفضل 5۔نومبر 1944ء صفحہ 1 322 اکتوبر 1944ء فرمایا : یہ جو مجھے پر بیماری کا حملہ ہوا اس سے پہلے میں نے ایک رویا دیکھا تھا جس میں اس بیماری کی طرف اشارہ تھا میں نے دیکھا کہ میں کہیں جا رہا ہوں کہ میں نے مفتی فضل الرحمان صاحب حکیم کو دیکھا کہ میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں مگر ان کا چہرہ صاف طور پر نظر نہیں آتا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مونہہ کے آگے کوئی جالی سی ہے۔