رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 242

242 دیں اور اس کی بجائے کسی اور کتاب کو ماننے لگ جائیں۔یہ جواب میں نے اسے رویا میں دیا۔اس کے بعد یکدم میری طبیعت میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور میں اسے کہتا ہوں مجھے تو خدا نے بتایا ہے کہ قرآن کریم کی ہر زیر اور ہر زبر اپنے اندر مہینے رکھتی ہے نہ صرف اس کی آیات میں بلکہ اس کی زیروں اور اس کی زبروں میں ایسی حکمتیں پوشیدہ ہیں کہ کوئی زبر اور کوئی زیر ایسی نہیں جو قابل منسوخ ہو اور جبکہ خدا نے مجھے قرآن کریم کی ہر زیر اور ہر زبر تک سمجھا دی ہے تو میں قرآن کریم کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں اور پھر تم بھی تو تسلیم کرتے ہو کہ قرآن کریم کچی کتاب ہے اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہیں۔الفضل 9 جولائی 1944ء صفحہ 4 309 *1944 فرمایا : مجھے چوہدری مشتاق احمد صاحب کا انگلستان سے جو خط ملا ہے اس میں انہوں نے میری 1944ء کی ایک خواب لکھی ہے جو یہ ہے کہ ”میں نے رویا میں ان کی بیوی کلثوم کو دیکھا کہ وہ کہہ رہی ہیں کہ بابا جی اتنے بیمار ہوئے لیکن ہمیں کسی نے اطلاع تک نہیں دی۔چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ بالکل ایسا ہی واقعہ اس وقت ہوا ہے ہمیں ان کی بیماری کی اطلاع تک نہیں ملی اور اب وفات کی خبر صرف آپ کی طرف سے ملی ہے خاندان کے کسی فرد کی طرف سے نہیں ملی۔الفضل 31۔جولائی 1949ء صفحہ 7 310 غالبا تیم جولائی 1944ء فرمایا : ایک اور رویا میں نے چھ سات دن ہوئے یہ دیکھا کہ روس کے ملک میں خوشیاں منائی جارہی ہیں جیسا کہ کوئی تازہ فتح ہوتی ہے۔ممکن ہے فن لینڈ یا کسی اور علاقہ میں روس کو فتح حاصل ہو ) الفضل 13۔جولائی 1944ء صفحہ 2 جولائی 1944ء 311 فرمایا : میں نے دیکھا۔ایک جگہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دارالمسیح کی پہلے زمانہ میں