رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 199
199 کالج کے چند طالب علم آئے اور انہوں نے مجھ سے ملاقات کا وقت لیا۔رپورٹ مجلس مشاورت 262 133 1944 مارچ 1944ء فرمایا : جب ہم لدھیانہ جا رہے تھے تو اس رو ز بارش ہو رہی تھی رستے خراب تھے نہر والوں نے بھی انکار کر دیا کہ ہم دروازہ نہیں کھول سکتے غرض ایسی حالت ہو گئی کہ میں ڈرتا تھا کہ شاید ہمارا جلسہ بھی ہو سکے یا نہ ہو سکے مگر اسی حالت میں مجھے الہام ہوا۔بہت سی برکتوں کے سامان کروں گا آخری لفظ کے متعلق مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا کہ کروں گا " یا " ہوں گے " تھا بہر حال الفاظ یہ تھے کہ "بہت سی برکتوں کے سامان کروں گا یا بہت سی برکتوں کے سامان ہوں گے " میں حیران تھا کہ حالت تو یہ ہے کہ بارش ہو رہی ہے اور نہر والے بھی راستہ نہیں دے رہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بہت سی برکتوں کے سامان کروں گا۔یہ الہام لدھیانہ جاتے ہوئے راستہ میں ہی مجھے ہوا گھر میں نے اس کا کسی سے ذکر نہ کیا آخر ایسا ہی ہوا بارش کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت کامیاب جلسہ ہوا اور بارش ہی دشمن کی شرارتوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ بن گئی۔الفضل 25۔جون 1944 ء صفحہ 2 263 مارچ 1944ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کسی جگہ ہوں وہاں انہوں نے میرے لئے ایک فٹن بھجوائی ہے اور مجھے اپنے گھر بلا بھیجا ہے تین چار دوست اس فٹن میں بیٹھ گئے اور میں بھی کہتا ہوں کہ میں نے وہاں جاتا ہے مگر میں ابھی بیٹھا نہیں کہ آنکھ کھل گئی۔شاید اس سے یہ مراد ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے گایا اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی احسن بات ظاہر ہونے والی پیرا حسن الدین ڈپٹی کمشنر مراد ہیں (مرتب)