رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 198
198 چاہئے اور اس قسم کی امداد کو قطعا برداشت نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ جذبہ امر اور حم کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے محبت کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہو تا۔الفضل 4۔ستمبر 1944 ء صفحہ 1-2 260 15۔مارچ 1944ء فرمایا : میر محمد اسحاق صاحب کی وفات سے پہلے جب میں قادیان آگر دوبارہ لاہور گیا ہوا تھا تو میں نے ایک رؤیا دیکھا جو اسی دن میں نے لاہور کے بعض دوستوں کو سنا دیا۔وہ بدھ کا دن تھا دوسرے دن جمعرات کو ہم واپس آگئے اور اسی شام کو میر محمد اسحاق صاحب بیمار ہو کر دوسرے دن وفات پاگئے اس دن میں کھانا کھا کر لیٹا ہی تھا کہ نیم غنودگی کی سی کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ حضرت اماں جان) کہہ رہی ہیں۔تالے کیوں نہ کھول لئے اور میں ان کو جواب دیتے ہوئے کہتا ہوں کس کی طاقت ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر تالے کھول سکے" حضرت اماں جان) کا یہ فرمانا کہ " تالے کیوں نہ کھول لئے " بتا تا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ ہو گا جس کا ان کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہو گا جس میں ہمیں ناکامی ہوگی۔میں نے بھی یہی کہا کہ کس کی طاقت ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر تالے کھول سکے۔رپورٹ مجلس مشاورت صفحہ 1944ء صفحہ 173 نیز دیکھیں۔الفضل 25۔جون 1944ء صفحہ 1 261 مارچ 1944ء فرمایا : گزشتہ دنوں جب میں لاہور میں تھا تو ایک دن میڈیکل کالج کے کچھ طالب علم مجھے ملنے کے لئے آئے ان میں سوائے ایک لڑکے کے باقی سب لڑکیاں تھیں لڑکا فورمین کرسچین کالج کا تھا اور لڑکیاں سب میڈیکل کالج میں پڑھتی تھیں۔ان کے آنے سے پہلے جب میں نماز پڑھ رہا تھا نماز کا آخری سجدہ تھا کہ یکدم مجھے الہام ہوا کہ عظمت کے بھوکے ہیں اس سے پہلے بھی کوئی فقرہ تھا جو مجھے بھول گیا۔مگر وہ اس قسم کا تھا شہرت کے طالب ہیں۔عظمت کے بھوکے ہیں " میں حیران ہوا کہ نہ معلوم کون شخص آج مجھ سے ملنے والا ہے تھوڑی دیر کے بعد میڈیکل