رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 146
146 انسان بھی باقی نہیں رہے گا۔الفضل 6۔اکتو بر 1934 ء صفحہ 9 222 مارچ 1940ء فرمایا : جب میں رشتہ کے متعلق استخارہ کر رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام ہو رہا ہے اس میں بہت سے لوگ شریک ہیں میز کرسیاں اور بینچ پڑے ہیں صدر کی جگہ میں بیٹھا ہوں اور کچھ لوگ اور بھی میرے ساتھ ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی دعوت میں شریک ہیں اور اس دعوت میں جو سرو (خدمت) کرنے والا ہے معلوم نہیں وہ کسی نسبت سے بھائی عبدالرحیم صاحب معلوم ہوتے ہیں۔یوں تو بھائی صاحب اب بہت ضعیف ہیں نظر بھی کچھ کمزور ہو چکی ہے مگر اس وقت وہ بالکل نوجوان معلوم ہوتے ہیں عمر چو بیس پچیس سال کی ہے حضرت خلیفہ اول مجھے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں میاں دیکھو تو یہ کیسا نوجوان ہے۔میں حیران ہو تا ہوں کہ یہ تو قریباً 65 سال کی عمر کے بوڑھے تھے مگر اب کیسے جوان ہیں۔میں نے اس خواب کی تعبیر یہی سمجھی کہ حضرت خلیفہ اول چونکہ میری اس لڑکی (صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ۔ناقل) کے نانا ہیں اس لئے ان کے دکھائے جانے کے یہ معنے ہیں کہ ان کے نزدیک بھی یہ رشتہ پسندیدہ ہے بھائی عبدالرحیم صاحب کا جو ان نظر آنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب کی صحت کمزور ہے دبلے پتلے ہیں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ وہ چاہے تو ان کی جسمانی صحت کو مضبوط کر دے گا۔میرے نزدیک تو یہی دیکھنا چاہئے کہ لڑکا نیک اور دیندار ہو۔بڑی دعوت کے دکھائے جانے کے یہ معنے ہیں کہ اس لڑکے کے والدین غریب ہیں چونکہ بیمار ہیں اس لئے گزارہ کی کوئی صورت نہیں۔میں نے خیال کیا کہ دعوت سے اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ کیا ہے کہ رزق کی کشائش اسی کے ہاتھ میں ہے وہ اگر چاہے تو غریبوں کو بھی امیر بنا سکتا ہے اور چاہے تو امیروں کی دولت بھی چھین سکتا ہے۔الفضل 14۔فروری 1941