رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 145

145 نہ تھا میں نے دیکھا کہ لدھیانہ میں ہوں اور ایک ایسے مکان میں ٹھہرا ہوں جو ایک لمبی سڑک کے کنارے پر واقع ہے یہ سڑک بہت چوڑی ہے اور بازار لمبا ہے جس میں کھانے کی دکانیں بھی ہیں۔میں اسی بازار میں ٹہلتا ہوں اور کوئی شخص مجھے کچھ نہیں کہتا اور نہ کوئی مخالفت کرتا ہے اور میں دل میں کہتا ہوں کہ اس شہر میں تو ہمیں گالیاں ملا کرتی تھیں پھر آج یہ کیا تغیر ہوا ہے کہ کوئی ہمیں کچھ بھی نہیں کہتا۔الفضل 18۔فروری 1959ء صفحہ 5 220 تمبر 1939ء فرمایا : جس دن جنگ کا آغاز ہوا اور ہم کو اس کی اطلاع آئی اس سے پہلی رات کو مجھے ایک جنگ کا نظارہ خواب میں دکھایا گیا مگر جیسا کہ اللہ تعالی کی سنت ہے اس نے خواب کا نظارہ مجھے مقامی ماحول میں دکھایا۔اس رنگ کے نظارے مجھے پہلے بھی دکھائے جاچکے ہیں۔مجھے دکھایا گیا کہ ہمارے باغ اور قادیان کے درمیان جو تالاب ہے اس میں قوموں کی لڑائی ہو رہی ہے مگر بظا ہر چند آدمی رسہ کشی کرتے نظر آتے ہیں کوئی شخص کہتا ہے کہ اگر یہ جنگ یونان تک پہنچ گئی تو اس کے بعد یکدم حالات متغیر ہوں گے اور جنگ بہت اہم ہو جائے گی۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ یکدم اعلان ہوا کہ امریکہ کی فوج ملک میں داخل ہو گئی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ کی فوج بعض علاقوں میں پھیل گئی ہے مگر وہ انگریزی حلقہ اثر میں آنے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتی۔اب یہ نظارہ دکھایا تو قادیان کے ماحول میں گیا مگر اس میں جنگ کی قریباً تفصیلات بتادی گئیں۔حتی کہ امریکہ کے انگریزوں کی تائید میں جنگ میں شامل ہونے کا بھی ذکر ہے۔الفضل 21۔دسمبر 1941ء صفحہ 2 - نیز دیکھیں۔الفضل 17 جنوری 1942ء صفحہ 2 و 4۔اگست 1942ء صفحہ 4 و 16۔مئی 1945ء صفحہ 3 اور الموعود ( تقریر جلسہ سالانہ 28 - دسمبر 1944ء) صفحہ 139 - 140 اکتوبر 1939ء - 221 فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے بارہا بتایا۔دنیا میں ایسی ایسی آفات آنے والی ہیں کہ وہ قیامت کا نمونہ ہوں گی اور بسا اوقات ان آفات کو دیکھ کر انسان یہ خیال کرے گا کہ اب دنیا میں شاید کوئی